تلنگانہ میں کل اسمبلی انتخابات، کانگریس اور بی آر ایس میں سخت مقابلہ، تمام تیاریاں مکمل، سیکوریٹی کے سخت انتظامات

حیدرآباد (دکن فائلز) ملک کی پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں سب سے آخر میں ریاست تلنگانہ میں کل ووٹنگ ہوگی۔ 30 نومبر کو ریاست کی تمام 119 سیٹیوں کے لئے ایک ہی مرحلے میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔ مرکزی الیکشن کمیشن نے تلنگانہ میں انتخابات کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انتظامیہ کی جانب سے رائے دہی کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو روکنے کے لیے بڑے پیمانے پر انتظامات کئے گئے ہیں۔ سینٹرل فورسیز بھی تلنگانہ میں پہلے سے موجود ہیں۔حساس مقامات اور نکسل متاثرہ علاقوں میں اضافی فورس تعینات کر دی گئی ہے جبکہ ریاست بھر میں دفعہ 144 نافذ رہے گی۔

تلنگانہ میں کل ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لیے سبھی انتظامات کرلیے گئے ہیں۔ 119 حلقوں کیلئے پولنگ ہوگی جو صبح 7 بجے سے شام 6 بجے تک جاری رہے گی۔ کل شام چناﺅ مہم ختم ہوجانے کے بعد، اب سبھی کی نظریں انتخابی کمیشن پر مرکوز ہیں۔

تلنگانہ کے چیف الیکٹورل افسر وکاس راج کے مطابق ریاست میں دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے جس کی رُو سے 4 یا اس سے زیادہ افراد کے ایک ساتھ جمع ہونے پر پابندی عائد ہوگی۔ چناﺅ ڈیوٹی پر ڈھائی لاکھ سے زیادہ اہلکار تعینات رہیں گے۔

پُرامن پولنگ کو یقینی بنانے کی غرض سے، سیکوریٹی انتظامات کے تحت، تلنگانہ اسٹیٹ خصوصی پولیس کی 50 اور مرکزی فورسز کی 375 کمپنیوں کو تعینات کیا جا چکا ہے۔ اسمبلی انتخابات میں بی آر ایس، کانگریس میں سخت مقابلہ ہے۔ میڈیا میں جتنا بی جے پی کو بڑھاچڑھا کر پیش کیا جارہا ہے اتنا زمینی سطح پر دکھائی نہیں دیتا۔

قومی اور علاقائی اور دیگر پارٹیوں سمیت 120 پارٹیوں کے 2 ہزار 290 امیدوار میدان میں ہیں۔ ان میں 221 خواتین اور ایک مخنث امیدوار شامل ہے۔ انتخابی کمیشن نے ریاست میں 35 ہزار سے زیادہ پولنگ مراکز قائم کئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں