حیدرآباد (دکن فائلز) گورنر کی تقریر پر شکریہ کی تحریک پر تلنگانہ اسمبلی میں حکمراں اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان گرما گرم بحث ہوئی۔ سابق وزیر و بی آر ایس کے رکن اسمبلی کے ٹی آر نے تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں آج گورنر کے خطبہ پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ بحیثیت رکن اسمبلی گورنر کے خطبہ پر انہیں شرمندگی محسوس ہوئی ہے۔ انہوں نے کانگریس پارٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے تقریر کے دوران کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے محاورہ کہا کہ سو چوہے کھاکر بلی حج کو چلی۔ کے ٹی آر نے کہا کہ قانون ساز اسمبلی میں اہم اپوزیشن کی حیثیت سے ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ حقائق کو عوام کے سامنے رکھیں۔ اس موقع پر انہوں نے معروف شاعر کے اشعار بھی سنائے جس میں کہا گیا کہ ’ایک لومڑی نے حلف لیا کہ وہ کسی اور کو دھوکہ نہیں دے گی اور ایک شیر نے ساتھی جانوروں کو مارنے سے توبہ کر لی’۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کا رویہ بھی اسی طرح کا ہے۔
کے ٹی آر کی تقریر کے دوران کانگریس ارکان سے ان کی دلسپ نوک جھونک دیکھی گئی۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے اس موقع پر ٹی آر اپس حکومت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ 10 سالوں میں ریاست کی ترقی کےلئے کیا کیا گیا؟ ریونت ریڈی نے اپوزیشن ارکان پر طنز کیا اور کہا کہ ہماری اپوزیشن کا احترام کرنے کی روایت رہی ہے اور ان کی حکومت اس روایت کو جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے ہی کے سی آر کو یوتھ کانگریس کا صدر بناتے ہوئے ان کے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا تھا اور انہیں بحیثیت رکن پارلیمنٹ جتایا اور مرکزی حکومت میں وزیر کا عہدہ کیا تھا۔
اس موقع پر نائب وزیراعلیٰ بھٹی وکرمارکا اور وزیر پونم پربھاکر نے کہا کہ بی آر ایس حکومت نے تلنگانہ کو قرضوں کے ڈھیر میں تبدیل کردیا۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومت نے ریاست کو تباہ کردیا۔ ریاست پر 5 لاکھ کروڑ کا قرض ہے۔


