تلنگانہ میں ایک بار پھر کورونا کی دستک، نئے ویریئنٹ سے دہشت، محکمہ صحت الرٹ، عوام کو احتیاط برتنے کا مشورہ

حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ میں اچانک کورونا کے کیسز میں اضافہ دیکھا جارہا ہے جبکہ اس کے نئے ویریئنٹ JN.1 سے جہاں ملک بھر میں تشویش پائی جاتی ہے وہیں تلنگانہ میں بھی کیسز میں اچانک اضافہ کے بعد عوام میں دہشت پائی جاتی ہے۔ گذشتہ روز ریاست میں ایک ہی دن میں کورونا کے چار کیسز رپورٹ ہوئے تھے تاہم تازہ اطلاعات کے مطابق محکمہ صحت نے بتایا کہ آج 20 دسمبر کو تلنگانہ میں مزید چھ مثبت کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ تفصیلات میں بتایا گیا کہ اس وقت زیرعلاج لوگوں کی تعداد 14 تک پہنچ گئی ہے۔ تمام نئے رجسٹرڈ کیسز کا تعلق حیدرآباد سے ہے۔ اس دوران ایک مریض صحتیاب ہوا ہے۔

کورونا کے نئے ویرینٹ کے پھوٹ پڑنے کے خدشات کے بیچ مرکزی حکومت نے تمام ریاستوں کو الرٹ کردیا ہے۔ نئے ویریئنٹ JN.1 نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی ہے۔ گذشتہ روز تلنگانہ بھر میں 402 افراد نے کورونا ٹیسٹ کرایا۔ ان میں سے چار مثبت پائے گئے۔

طبی ماہرین کے مطابق نئے ویریئنٹ JN.1 زیادہ خطرناک نہیں ہے۔ تاہم محتاط رہنے کا مشورہ دیا جارہا ہے کیونکہ اس کے تیزی سے پھیلنے کا خدشہ ہے۔ لوگوں کو عوامی مقامات پر ماسک کا استعمال کرنے کا مشورہ دیا جارہا ہے۔ کیرالا میں کورونا کے کیسز میں زبردست اضافہ دیکھا جارہا ہے ایسے میں ریاست کے سبریمالا میں ایاپا کے بھگت ملک بھر سے آتے ہیں، ان کے ذریعہ کورونا کے کیسز دیگر علاقوں کو منتقل ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے۔

تلنگانہ حکومت کی جانب سے اس سلسلہ میں اقدامات کئے جارہے ہیں۔ سکندرآباد کے گاندھی ہاسپٹل اور ورنگل ایم جی ایم ہاسپٹل میں پچاس بستروں پر مشتمل ایک خصوصی وارڈ بنایا گیا جہاں وینٹی لیٹرز، آکسیجن بیڈز و دیگر سہولتیں موجود ہیں۔

گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کیرالا میں 292، تمل ناڈو میں 13، مہاراشٹرا میں 11، کرناٹک میں 9 اور تلنگانہ و پڈوچیری میں چار چار کیسز درج کئے گئے۔ اسی طرح گجرات میں 3 اور پنجاب اور گوا میں ایک ایک کیسز رپورٹ ہوا ہے۔

صحت کے مرکزی وزیرڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے ملک میں کووڈ 19 کے معاملات میں اضافے کے تناظر میں آج سبھی ریاستوں سے احتیاطی اقدامات کرنے کو کہا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ہمیں چوکنا رہنے کیضرورت ہے، لیکن پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ڈاکٹر مانڈویہ دہلی میں مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے وزرائے صحت کے ساتھ ورچوئل وسیلےسے ایک اعلیٰ سطحی جائزہ میٹنگ کی صدارت کے موقع پر خطاب کررہے تھے، جس کا اہتمام صحت سے متعلق سہولیات اور خدمات کی تیاری کے سلسلے میں کیا گیا تھا۔ میٹنگ میں ڈاکٹر منڈاویہ نے کہا کہ حکومت کسی بھی بیماری سے نمٹنے کی خاطر سبھی ریاستوں اورمرکز کے زیر انتظام علاقوں کی مدد کیلئے ہمیشہ تیار ہے۔ انھوں نے ہر تین مہینے میں سبھی اسپتالوں سے ماک ڈرل کرنے کیلئے کہا۔

وزیر موصوف نے کہا کہیہ مکمل حکمرانی کے ساتھ مل کر کام کرنے کا وقت ہے۔ انھوں نے نگرانی میں اضافے اورلوگوں کے ساتھ موثر رابطہ بڑھانے پر بھی زور دیا۔ میٹنگ کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے نیتی آیوگ کے ممبر صحت ڈاکٹر وی کے پال نے مطلع کیا کہ اِس وقت کووڈ19 سے متاثرہ 2 ہزار 300 سے زیادہ معاملات ہیں۔ انھوں نے کہا کہ گزشتہ دو ہفتے کےدوران ملک میں 16 اموات ہوئی ہیں۔ میٹنگ کے دوران سبھی ریاستوں کے نمائندوں نےاپنے متعلقہ ریاستوں میں تیاری کے سلسلے میں تفصیلات پیش کیں۔حال ہی میں اِنفلوئنزا اور کووڈ 19 جیسی سانس کی بیماری میں اضافے کے تناظر میں اِس میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں