دنیا کا خاتمہ کتنا نزدیک؟ سائنس دانوں نے قیامت کی گھڑی سیٹ کر دی… (ویڈیو دیکھیں)

(ایجنسیز) سائنس دانوں نے ڈومز ڈے کلاک (قیامت کی گھڑی) منگل 23 جنوری 2024 کو اپ ڈیٹ کردی۔ یہ کھڑی دراصل ماہرین کا دنیا کے خاتمے سے متعلق اندازہ ہےجسے گذشتہ سال آدھی رات ہونے میں 90 سیکنڈز کم پر سیٹ کیا گیا تھا۔ غزہ پر اسرائیل کی بمباری، یوکرین پر روس کی لشکر کشی اور روس کی طرف سے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے خدشے کی بنیاد پر سائنس دانوں نے ڈومز ڈے گھڑی کو حسبِ روایت آدھی رات کے نزدیک رکھا ہے۔

بلیٹن آف دی ایٹمک سائنٹسٹس کے مطابق دنیا وہاں کھڑی ہے جہاں سے مکمل خاتمے کی منزل زیادہ دور نہیں ان کا کہنا ہے کہ جب منٹ کا کانٹا آدھی رات سے 90 سیکنڈ کی دوسری پر پہنچے گا تو اسے دنیا کا خاتمہ تصورکیا جائے گا۔ ایک زمانے سے سائنس فطری علوم و فنون میں پیش رفت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی پیچیدگیوں، ماحول کو پہنچنے والے نقصان اور فکر و نظر میں پیدا ہونے والی گراوٹ کی بنیاد پر ڈومز ڈے گھڑی کی سیٹنگ کا تعین کرتے آئے ہیں۔

بلیٹن کے صدر اور سی ای او رچل برونسن کا کہنا ہے کہ ایک طرف سیاسی اضطراب کے نتیجے میں عسکریت پسندی بڑھ رہی ہے، مسلح تصادم میں اضافہ ہو رہا ہے اور دوسری طرف قدرتی ماحول میں رونما ہونے والی منفی تبدیلیاں معاملات کو مزید خطرناک بنارہی ہیں۔ ڈومز ڈے کلاک 1947 سے چلایا جارہا ہے جس کا بنیادی مقصد دنیا بھر کے لوگوں کو ہر طرح کے گراوٹ سے خبردار کرنا اور ایسے اقدامات کی تحریک دینا ہے جن سے دنیا بھر میں قدرتی ماحول کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ ہو۔

وہیں العربیہ کی ایک رپورٹ میں تفصیلات پیش کی گئیں کہ گذشتہ سال گھڑی کو آدھی رات ہونے میں 90 سیکنڈز کم پر سیٹ کیا گیا تھا، جو اب تک کے قریب ترین ہے۔ اس گھڑی کو 1947 میں دنیا کے چند سرکردہ سائنس دانوں نے بنایا تھا۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ انسانیت جوہری جنگ، ماحولیاتی بحران اور مصنوعی ذہانت سمیت انسان کے پیدا کردہ خطرات سے تباہی کے کتنے قریب ہے۔

آدھی رات کا مطلب تباہی ہے۔ اور گھڑی کے رکھوالے سال میں ایک مرتبہ اس کا وقت آگے اور پیچھے کرتے ہیں تاکہ انسانیت کو درپیش خطرات سے خبردار کیا جا سکے۔ 2023 میں 90 سیکنڈز کی دوری پر، یہ 1950 کی دہائی کے جوہری پھیلاؤ کے ایام کے مقابلے میں آدھی رات کے زیادہ قریب تھا۔ 90 کی دہائی کے شروع میں یہ گھڑی خطرے سے دور چلی گئی اور 1991 میں آدھی رات سے 17 منٹ دور سیٹ کی گئی، جہاں یہ چار سال تک رہی۔

قیامت کی گھڑی آئی کہاں سے؟
یہ گھڑی سب سے پہلے 1947 میں بلیٹن آف دی اٹامک سائنٹسٹس کے اراکین نے بنائی تھی۔ اگرچہ یہ ایک جریدہ شائع کرتا ہے، لیکن بلیٹن دراصل متعلقہ ماہرین کا ایک گروپ ہے ، جو جوہری دور کے آغاز میں بنایا گیا تھا اور اس میں البرٹ آئن سٹائن اور جے رابرٹ اوپن ہائیمر جیسے دنیا کے بہت سے مشہور سائنس دان شامل تھے۔

گھڑی کا خواب میگزین کے سرورق کے ڈیزائن کے حصے کے طور پر دیکھا گیا تھا اور آرٹسٹ مارٹل لینگسڈورف نے اسے تیار کیا تھا، جنہوں نے ایٹم بم بنانے کے لیے مین ہیٹن پروجیکٹ پر کام کیا تھا۔ پہلا اعلان آدھی رات سے سات منٹ دوری کا تھا، تاہم لینگسڈورف کا کہنا تھا کہ اس وقت کا انتخاب خطرے کی عکاسی کے بجائے خوبصورتی کی وجہ سے کیا گیا تھا کیونکہ یہ ’دیکھنے میں اچھا لگ رہا تھا۔‘

اس کے بعد سے، وقت ہر سال تبدیل ہو رہا ہے۔ ابتدائی طور پر ان تبدیلیوں کا فیصلہ ایڈیٹر یوجین رابینووچ نے کیا تھا لیکن 1973 کے بعد سے ماہرین کے ایک بورڈ نے یہ فیصلہ باہمی تعاون سے کیا اور اسی وقت ایک طویل جواز اور انتباہ شائع کیا۔ ڈومز ڈے کلاک کا استعارہ کامک بک اور ٹی وی سیریز ’واچ مین‘ سے لے کر لنکن پارک کے البم ’منٹس ٹو مڈ نائٹ‘ تک مقبول ثقافت میں سمویا گیا۔

قیامت کی گھڑی کس چیز کی علامت ہے؟
یہ اس بات کی علامت ہے کہ انسانیت کو کتنا خطرہ ہے۔ ایسا کرنے کا مقصد انسانیت کو درپیش خطرات کا پتہ لگانا، تجزیہ کرنا اور ختم کرنا ہے۔ اگرچہ اسے جوہری جنگ کے خطرے کے ردعمل میں بنایا گیا تھا، تاہم وقت کے ساتھ ساتھ یہ گھڑی بدل گئی ہے تاکہ کسی بھی قسم کے خطرات کو اس میں شامل کیا جا سکے۔

حالیہ دہائیوں میں جوہری خطرات کے ساتھ ساتھ اس میں ماحولیاتی بحران، مصنوعی ذہانت اور وبائی امراض سے پیدا ہونے والے خطرات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

یہ یہاں سے کہاں جائے گی؟
کوئی نہیں جانتا۔ جب ہر سال گھڑی کے نئے وقت کا اعلان کیا جاتا ہے تو سائنس دان اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اس کا مطلب ایک ایکشن کی ضرورت اور سیاست دانوں کو انتباہ ہے کہ خطرہ آنے والا ہے لیکن اس کے بارے میں کچھ کرنا ان کے اختیار میں ہے۔

بلیٹن اس بات پر بھی زور دیتا ہے کہ گھڑی کا مطلب مستقبل کی پیش گوئی نہیں بلکہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ہم اب کہاں ہیں۔ اپنی ویب سائٹ پر، یہ خود کو ’تشخیص کرنے والے ڈاکٹر‘ سے تشبیہ دیتا ہے۔

بلیٹن کی وضاحت کے مطابق: ’ہم اعداد و شمار دیکھتے ہیں، جیسا کہ ڈاکٹر لیبارٹری ٹیسٹ اور ایکسرے دیکھتے ہیں اور مقدار کو درست کرنے کے لیے مشکل عوامل کو بھی مدنظر رکھتے ہیں، جیسا کہ ڈاکٹر مریضوں اور خاندان کے افراد سے بات کرتے وقت کرتے ہیں۔

’ہم زیادہ سے زیادہ علامات، پیمائش اور حالات پر غور کرتے ہیں جتنا ہم کر سکتے ہیں۔ پھر ہم ایک فیصلہ کرتے ہیں، جس کا خلاصہ ہوتا ہے کہ اگر رہنما اور شہری حالات کی بہتری کے لیے ایکشن نہیں لیتے تو کیا ہوسکتا ہے۔‘

اپنا تبصرہ بھیجیں