ہمراہی ٹرسٹ کے زیر اہتمام ایک شام سجیت سہگل کے نام مشاعرہ کا انعقاد

حیدرآباد (پریس نوٹ) ہندوستان صدیوں صدیوں سے ہندو مسلم میل ملاپ کا حسین سا گلدستہ رہا ہے۔آج کی یہ شعری نشست جو سیکولر اور جمہوری قدروں کی ترجمانی کر رہی ہے وہیں علم و ادب اور انسانی قدروں کی غماز ہے۔ ایسا لگتا ہے گویا آج 500 سال پہلے کا قطب شاہی دور نیز 1948 سے پہلے کا حیدرآباد لوٹ آیا ہے۔ ان خیالات کا اظہارہمراہی ٹرسٹ کی جانب سے منعقدہ مشاعرہ میں اپنے صدارتی خطاب میں پروفیسر مسعود جعفری نے کیا۔ یہ مشاعرہ اردو کے معروف شاعر سجیت سہگل کی حیدرآباد آمد پر رائل ریسیڈنسی تلک نگر میں منعقد گیا تھا۔

انہوں نے کہاکہ سجیت سہگل”حاصل“ تخلص فرماتے ہیں اور پیشے سے بینکر ہیں۔ان کی غزلیں سوشیل میڈیا پرکافی مشہور ہیں۔اس موقع پر حیدرآباد شہر کے نامور غم دنیا کے آئینہ دار مدعو شعرائے کرام سید نوید جعفری، سیف نظامی، شکیل ظہیرآبادی، ارشد شرفی، شکیل حیدر، سنیتا للا، آرزو مہک، ایلزبتھ کورین مونااوررفیعہ نوشین (داعی محفل) نے اپنا بہترین منتخب کلام سنا کر خوب داد و تحسین حاصل کی۔سجیت سہگل نے بھی اپنا عمدہ کلام سنایا جسے بہت سراہا گیا۔ شکیل حیدر نے سجے بنے صاف ستھرے الفاظ اور بہترین منتخب اشعار کے ساتھ نظامت کے فرائض بحسن خوبی انجام دئے۔ رفیعہ نوشین (صدر ہمراہی ٹرسٹ) نے تمام شعرائے کرام کا صمیم قلب سے شکریہ ادا کیا۔جس کے ساتھ ہی اس یاد گار نشست کا اختتام عمل میں آیا جو اپنے معیار کے لئے برسوں یاد رکھا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں