کرغزستان میں مقامی طلبا نے غیرملکی طلبا کے ہاسٹلز پر حملہ کردیا، ہندوستانی شہریوں کو گھروں میں ہی رہنے کا مشورہ، ایمرجنسی نمبر جاری

حیدرآباد (دکن فائلز) کرغزستان کے دارالحکومت میں مقامی اور غیرملکی طلبا کے درمیان ہنگامہ آرائی میں ہندوستانی طلبا بھی زد میں آگئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں مقامی اور غیرملکی طلبا کے درمیان ہنگامہ آرائی ہوئی۔ مشتعل کرغز طلبا نے غیرملکی طلبا کے ہاسٹلز پر حملے کیے جبکہ متعدد طلبا کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں تاہم حملوں میں ہلاکتوں کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

غیر ملکی طلباء پر حملوں کے درمیان ہندوستان نے کرغزستان میں موجود اپنے شہریوں کو گھروں میں رہنے کا مشورہ دیا۔ ہندوستان کی جانب سے یہ ایڈوائزری اس وقت جاری کی گئی جب ہجومی تشدد میں متعدد پاکستانی طلباء کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

ہندوستانی قونصلیٹ نے ایکس پر ٹوئٹ کیا کہ “ہم اپنے طلباء کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ صورتحال اس وقت پرسکون ہے لیکن طلباء کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ گھروں میں ہی رہیں اور کسی مسئلہ کی صورت میں سفارت خانے سے رابطہ کریں۔ ہمارا 24×7 رابطہ نمبر 0555710041 ہے”

وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھی طلباء کو سفارت خانے کے ساتھ مستقل رابطے میں رہنے کا مشورہ دیا۔جے شنکر نے کہاکہ “بشکیک میں ہندوستانی طلباء کے تحفظ کی نگرانی کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اب صورتحال پرسکون ہے۔ طلباء کو سفارت خانے کے ساتھ باقاعدہ رابطے میں رہنے کا مشورہ دیا جارہا ہے۔

وہیں سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ حملے میں تین پاکستانی طالب علم مارے گئے ہیں، حکومت نے کہا ہے کہ انہیں ابھی تک کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ پاکستانی سفارتخانے نے کہا کہ یہ معاملہ 13 مئی کو کرغیز اور مصری طلباء کے درمیان ہونے والی لڑائی کی ویڈیوز جمعہ کو آن لائن وائرل ہونے کے بعد بڑھا۔

ہجوم نے بشکیک میں میڈیکل یونیورسٹیوں کے ہاسٹل کو نشانہ بنایا، جہاں ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش کے طلباء آباد ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں