(ایجنسیز) امریکی صدر جو بائیڈن نے عالمی فوجداری عدالت میں پراسیکیوٹر کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سمیت دیگر کے وارنٹِ گرفتاری جاری کرنے کی درخواست پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ نسل کشی نہیں ہے۔ جو بائیڈن نے وائٹ ہاؤس کے روز گارڈن میں یہودی امریکی ثقافتی ورثے کی مناسبت سے منعقد کردہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں جو کچھ اسرائیل کررہا ہے اسے نسل کشی نہیں کہا جاسکتا۔ انہوں نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر کی جانب سے وارنٹ گرفتاری کی استدعا کو اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔
وہیں امریکہ کے برعکس فرانس نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ممکنہ وارنٹِ گرفتاری پر بین الااقوامی فوجداری عدالت کی حمایت کر دی۔ فرانس کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کا ملک بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے فیصلوں، اس کی آزادی اور تمام حالات میں کسی خاص کو حاصل استثنیٰ کے خلاف جنگ کی حمایت کرتا ہے۔
گزشتہ روز بین الااقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے پراسیکیوٹر کریم خان نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو، وزیر دفاع یوو گیلنٹ اور حماس کے رہنماؤں یحییٰ سنوار، محمد دیف اور اسماعیل ہنیہ کے وارنٹِ گرفتاری کی درخواست کی تھی۔


