حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ پولیس نے میدک میں فرقہ پرست عناصر کے خلاف سخت کاروائی کا آغاز کردیا ہے۔ پولیس نے بی جے پی میدک کے ضلع صدر گدام سرینواس، بی جے پی میدک ٹاؤن کے صدر ایم نیام پرساد، بی جے وائی ایم کے صدر کے علاوہ دیگر سات کو میدک ٹاؤن میں گذشتہ روز ہوئے پرتشدد واقعہ کے سلسلے میں گرفتار کرلیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق میدک میں مدرسہ منہاج العلوم مدرسہ کی انتظامیہ نے بقرعید کے موقع پر قربانی کےلئے جانور (بیل) خریدے تھے۔ کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب ہندوتوا تنظیموں کے ارکان نے قربانی کے جانوروں پر اعتراض کرتے ہوئے ہنگامہ کرنا شروع کردیا جبکہ یہاں کوئی ممنوعہ جانور یا گائے نہیں تھی بلکہ تمام جانور بیل تھے اور تمام دستاویزات بھی موجود تھے۔ ان سب کے باوجود شرپسندوں نے شہر میں تقریباً 6 تا 8 گھنٹے تک ننگا ناچ کیا۔ پرتشدد واقعات میں متعدد مسلم نوجوان اور مدرسہ کے ذمہ دار زخمی ہوگئے۔ فرقہ پرستوں نے مسلمانوں کی املاک کو چن چن کر نشانہ بنایا۔ انتہا تو یہ ہوگئی کہ پولیس کی موجودگی میں شرپسندوں نے ہاسپٹل پر بھی حملہ کردیا جہاں زخمی مسلمانوں کا علاج کیا جارہا تھا۔
https://x.com/i/status/1802113894661669061
پرتشدد واقعات کے بعد پورے شہر اور اطراف کے علاقہ میں کشیدگی پھیل گئی۔ ایک زخمی نے بتایا کہ پولیس کی موجودگی میں شرپسندوں نے منصوبہ بند طریقہ سے حملہ کیا اور پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔ پولیس نے پرتشدد واقعات کے بعد دفعہ 144 نافذ کردیا۔ میدک پولیس نے بتایا کہ حالات پرامن اور قابو میں ہیں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے علاقے میں دفعہ 144 بھی نافذ کیا گیا۔
https://x.com/i/status/1802289210440765598
اطلاعات کے مطابق آئی جی رنگناتھ نے پولیس کی کارکردگی پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے علاقہ میں لوگوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی اور عیدالاضحیٰ کے موقع پر امن و امان کی ہرصورت میں برقراری کا تیقن دیا۔ آئی جی رنگناتھ نے شرپسند عناصر کو خبردار کیا کہ کسی بھی طرح کی شرانگیزی کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔


