حیدرآباد میں جشن میلاد النبیﷺ عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جشن کا ناخوشگوار اختتام

حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ بھر میں نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا یوم ولادت مذہبی عقیدت اور احترام کے ساتھ 19 ستمبر کو منایا گیا۔ دراصل برادران وطن کے گنیش تہوار کے پرامن انعقاد کےلئے مسلمانوں نے 16 ستمبر کے بجائے 19 ستمبر کو جشن میلاد النبی منانے کا فیصلہ کیا تھا۔

تلنگانہ کے مختلف اضلاع کے علاوہ حیدرآباد میں انتہائی عقیدت کے ساتھ تقاریب کا انعقاد کیا گیا، جگہ جگہ عام دعوت کا اہتمام کیا گیا جس میں بلالحاظ مذہب و ملت بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ جشنِ عید میلادالنبیﷺ کے موقع پر درود و سلام کی محفلیں سجاکر آقائے دو جہاں سے محبت کا اظہار کیا گیا۔ وہیں تلنگانہ کے مختلف اضلاع کے علاوہ حیدرآباد کے مختلف علاقوں میں عاشقان رسول نے محافل میلاد کا انعقاد کیا اور ریلیاں نکالیں۔ حیدرآباد کے چارمینار سے مرکزی ریلی نکالی گئی جس میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔

خاص طور پر حیدرآباد کے پرانے شہر میں گلی گلی، قریہ قریہ برقی قمقموں سے سجایا گیا۔ جشن میلاد النبیﷺ کے سلسلے میں مساجد، گھروں، سڑکوں کو خوبصورتی سے سجایا گیا، میلادالنبیﷺ کی تقاریب کا اہتمام کیا گیا اور قوم و ملت کی ترقی و خوشحالی کیلئے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔

اس دوران کچھ ناسمجھ نوجوانوں کی وجہ سے شہریوں کو تکالیف کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ نوجوانوں کی ہلڑبازیاں دیکھ کر ذی شعور مسلمان خاصکر بزرگ حضرات کافی فکرمند نظر آئے۔ نوجوان سرعام جشن کے نام پر گاڑیوں پر کرتب بازی اور دیگر غیراخلاقی و غیرشرعی حرکتیں کرتے نظر آئے جس کی وجہ سے جشن میلاد النبیﷺ کا اصل مقصد و منشا متاثر ہوئی ہے۔

وہیں بعض ناخوشگوار واقعات کی وجہ سے بھی مسلمانوں میں تشویش دیکھی گئی۔ نارائن پیٹ میں اشرار کی جانب سے جشن میں خلل ڈالنا، بھینسہ میں مسجد پر پتھراؤ کرنا، حیدرآباد کے دھول پیٹ میں میلاد ریلی پر پتھراؤ کرنا جیسے واقعات سے مسلمانوں میں بے چینی پائی گئی جبکہ لوگوں نے ان واقعات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پولیس کے رویہ پر سوال اٹھائے اور شرپسندوں کے خلاف نرم رویہ اختیار کئے جانے پر افسوس کا اظہار کیا۔

اسی طرح گذشتہ رات جشن میلاد النبی کے آخری لمحات میں چارمینار کے قریب پیش آئے واقعہ سے بھی تلنگانہ بھر کے مسلمانوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی جہاں ایک لاری پر سٹ کئے گئے ساونڈ سسٹم میں آگ بھڑک اٹھی تھی جس کے بعد علاقہ میں افراتفری پھیل کا ماحول دیکھا گیا۔ اس دوران ایک اور ویڈیو بھی وائرل ہوئی جس میں پولیس کو جشن منارہے نوجوانوں پر لاٹھی چارج کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے پولیس کے ایکشن پر تنقید کی۔ ایک صارف نے لکھا کہ ’مسلمانوں کے خلاف معمولی بات پر لاٹھی چارج کی جاتی ہے جبکہ دو روز قبل نکالے گئے گنیش جلوس کے دوران متعدد مقامات پر شرانگیز نعرے لگائے گئے، ڈی جے پر اشتعال انگیزی کی گئی لیکن پولیس خاموش رہی‘۔

تاہم حیدرآباد پولیس کمشنر سی وی آنند نے چارمینار کے قریب پولیس لاٹھی چارج کی تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ لاری پر رکھے گئے جنریٹر پر آگ لگنے کے بعد پولیس نے عوام کو کسی بڑے حادثہ سے محفوظ رکھنے کےلئے مقام سے ہٹانے کی کوشش کی ، اس دوران ہلکی طاقت کا استعمال کیا گیا کیونکہ کچھ لوگ آگ لگنے کے مقام کی طرف جانا چاہتے تھے، اس دوران اگر آگ لاری کی ڈیزل ٹانکی تک پہنچ جاتی تو بڑا حادثہ ہوسکتا تھا۔ اسی لئے لوگوں کو وہاں سے ہٹایا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں