میلاد ریلی کے دوران دھول پیٹ میں ناخوشگوار واقعہ، پرانے شہر کے 3 نابالغ سمیت 9 نوجوان گرفتار: گمراہ کن و نفرت انگیز ویڈیو شیئر کرنے کے الزام میں مزید 4 گرفتار

حیدرآباد: منگل ہاٹ پولیس نے تین نابالغوں سمیت نو افراد کو میلاد النبی کے موقع پر دھول پیٹ علاقہ میں مبینہ طور پر جھگڑا کرنے اور مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی پیدا کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق گرفتار نوجوانوں کی شناخت یاقوت پورہ کے 24 سالہ شیخ عمر، تالاب کٹہ کے 20 سالہ عدنان بیگ، امان نگر کے 20 سالہ محمد فیاض اور 20 سالہ میر ابرار علی خان کے علاوہ گولی پورہ کے 18 سالہ محمد عثمان، چادر گھاٹ کے 18 سالہ محمد عبدالرزاق و تین نابالغ لڑکوں کے طور پر کی گئی۔ پولیس نے بتایا کہ اس معاملہ میں مزید 4 نوجوان فرار ہیں۔

ان نوجوانوں پر گھوڑے کی خبر سے جمرات بازار تک جلوس نکال کر جھگڑا کرنے کا الزام ہے۔ ان کے خلاف پولیس نے 126 (2) (غلط پابندی) 115 (2)، (رضاکارانہ طور پر چوٹ پہنچانا)، 118 (1) (خطرناک ہتھیاروں یا ذرائع سے رضاکارانہ طور پر چوٹ پہنچانا یا شدید چوٹ پہنچانا) 299 (جان بوجھ کر اور بدنیتی)، کسی بھی طبقے کے مذہب یا مذہبی عقائد کی توہین کرکے اس کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنا، 191 (2) (فسادات)، 191 (3) (مہلک ہتھیار سے فساد) آر/190 (غیر قانونی اسمبلی) بی این ایس اور 61 (2) (جرائم کی رضامندی کی کوشش کی سزا) بی این ایس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا۔

دوسری جانب شاہ عنایت گنج پولیس نے میلاد النبی کے دوران مختلف مذاہب کے درمیان مبینہ طور پر غلط افواہیں پھیلانے اور دشمنی کو فروغ دینے کے الزام میں چار افراد کو گرفتار کیا ہے۔ گرفتار ملزمین کی شناخت 43 سالہ نریش ویاس جو یوٹیوب چینل 9 بھارت سماچار کا کیمرہ مین ہے، فائی ان نیوز کے چیرمین 39 سالہ شیخ شوکت احمد، 51 سالہ مہیش کمار چیئرمین 9 بھارت سماچار اور 55 سالہ تاجر سندیپ بوہرا کے طور پر کی گئی۔ پولیس نے بتایا کہ گرفتار 4 افراد نے منگل ہاٹ میں ہونے والے جھگڑے کی ویڈیوز کو شوشل میڈیا پر شیئر کیا تھا۔

ملزمین نے راجہ سنگھ کا نفرت انگیز بیان اور چارمینار کے قریب جنریٹر میں آگ لگنے کے واقعہ کو بڑھا چڑھاکر دکھاتے ہوئے سوشل میڈیا پر شیئر کیا تھا۔ ڈی سی پی (ساؤتھ ویسٹ) چندر موہن نے کہاکہ ان چارو افراد نے مختلف مذہبی گروپس کے درمیان دشمنی اور نفرت کو ہوا دینے کے ارادے سے ان ویڈیوز کو شیئر کیا تھا۔

پولیس نے عوام سے اپیل کی کہ وہ جھوٹی خبریں شیئر نہ کریں جس سے امن و امان میں خلل پڑتا ہو۔ پرامن ماحول کےلئے پولیس کی مدد کریں اور سماج میں نفرت پھیلانے سے پرہیز کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں