حیدرآباد : (پریس نوٹ) بابری مسجد کا زخم ابھی تازہ ہے مزید کسی بھی مسجد ‘ درگاہ ‘ قبرستان ‘ مدرسہ سے مسلمان دستبردار نہیں ہوں گے۔ جمہوریت میں سیکولر پارٹیوں کا بڑا امتحان کا وقت ہے ۔ ملک کی یکجہتی سالمیت بھائی چارگی کو ختم کرکے نیا بھارت بنانے کی سمت آر ایس ایس ‘ بی جے پی جارہی ہے جو خطرناک ہوگا۔
محمد مشتاق ملک صدر تحریک مسلم شبان و شرعی فیصلہ بورڈ نے آج 6ڈسمبر 2024کو جامع مسجد مارٹ پلی سکندرآباد اور مسجد اُجالے شاہ سعید آباد میں وحدت اسلامی کے جلسے میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بابری مسجد کو ہتھیانے کے بعد فرقہ پرستوں کی بھوک مسجد کے تعلق سے مزید بڑھ گئی ہے ۔ جبکہ مذہبی عبادت گاہوں کا قانون 1991موجود ہے مگر مساجد کے سروے اور مفاد رہزنے کے دعوائوں کی ریس چل رہی ہے ۔ 1992’ 6ڈسمبر کو ہندوستان کے مسلمان ابھی بھولے نہیںہے نہ بھولاجائیگا ۔ بابری مسجد کے بعد کسی بھی مسجد کے تعلق سے مسلمان خاموش تماشائی بنا نہیں رہے گا ۔
صدر تحریک مسلم شبان نے کہا کہ آر ایس اور بی جے پی کو ملک سے معافی چاہنا چاہئے کہ انھوں نے بابری مسجد کے خلاف رام مندر تحریک میں یہ الزام لگایاتھاکہ مسلمان مندر کو توڑ کر مسجد بنائیں ہے۔ ہمکو سپریم کورٹ نے تسلیم نہیں کیا ۔ دوسری اہم بات مسجد میں رام چندرجی کی مورتی 22ستمبر 1949کو پرکٹ ( یعنی معجزاتی ) طورپر زمین سے نکلنے کا پروپیگنڈہ کیاتھا سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں کہاکہ 1949میں بابری مسجد میں مورتی لاکر رکھنا غلط عمل تھا ۔ مندر کو توڑنے کا الزام مسلمانوں پر لگایاگیا جو بالکل غلط ثابت ہوا۔ اصولاً بی جے پی اور آر ایس ایس ملک کی عوام سے اس غلط پروپیگنڈہ پر معافی چاہئے ۔
محمد مشتاق ملک نے سنبھل کی جامع مسجد کے دوسرے سروے اور پانچ معصوموں کی جانیں حجانے پر دکھ کا اظہار کیا ۔ جامع مسجد دہلی ‘ بدایوں کی مسجد ‘ درگاہ غریب نواز جیسے مسائل پر مسلمانوں کو موثر حکمت عملی کے ذریعہ مقابلہ کرنا چاہئے ۔ تمام مسلم اراکین پارلیمنٹ ان مسائل پر متحد ہوجائیں جماعتی ایجنڈے کو ان مذہبی مسائل پر ترجیحی نہ دیں ۔ شان رسالت ۖ اور مساجد ہمارے شرعی اور حساس مسائل ہے اس پر وزیراعظم سے مسلم اراکین پارلیمنٹ ملاقات کریں اور ان تماشوں پر روک لگانے اور شان رسالت ۖ میں گستاخی کرنے والے مجرموں کو سزا کیلئے مطالبہ کریں ۔ ملک کے سب سے بڑے ادارے کے مسلم اراکین اپنی دینی اور ملی ذمہ داریوں کو سمجھیں۔ محمد مشتاق ملک نے بابری مسجد سے لیکر سنبھل تک کے شہداء کیلئے دعاء کی اور اُمت کے اتحاد پر زور دیا ۔


