حیدرآباد: طلبا کے آپسی جھگڑے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کو پولیس نے ناکام بنادیا، پرانے شہر کے اسکول میں غیرضروری ہنگامہ سے علاقہ میں کشیدگی (ویڈیو دیکھیں)

حیدرآباد (دکن فائلز) حیدرآباد کے پرانے شہر میں واقع اسکول میں طلبا کے بیچ ہوئے جھگڑے کو فرقہ وارانہ رنگ دیکر ہنگامہ کھڑا کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی تاہم پولیس نے اس طرح کی کوشش کو ناکام بنادیا۔ تفصیلات کے مطابق ایک 13 سال کے لڑکے پر حملہ کرنے کا کچھ مسلم طلبا پر الزام عائد کرتے ہوئے ہنگامہ کیا گیا اور اسے فرقہ وارانہ رنگ دیکر معاملہ کو خوب اچھالنے کی کوشش کی گئی۔

آج صبح تقریباً ایک سو سے زیادہ ایاپا سوامی کی بھگت حیدرآباد پرانے شہر کے شمشیر گنج میں واقع ایک اسکول میں جمع ہوکر مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کچھ مسلم طلبا پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے دوسرے فرقہ کے ایک طالب علم پر جو سوامی ایاپا کے لباس میں ملبوس تھا حملہ کیا اور مارپیٹ کی۔ انہوں نے بتایا کہ منگل کی شام کچھ طلبا نے سوامی دیکشا کرنے والے ایک طالب علم پر حملہ کیا۔

https://x.com/i/status/1866767377930805370

تاہم اسکول انتظامیہ اور مسلم طلبا کے سرپرستوں نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ طلبا کے بیچ آپسی جھگڑا ہے، اسے فرقہ وارانہ رنگ نہ دیں لیکن مظاہرین اپنی ضد پر اڑے رہے اور غیرضروری ہنگامہ کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے بغیر اجازت نہ صرف اسکول میں داخل ہوئے بلکہ کلاس روم میں جاکر کچھ مسلم طلبا کو زبردستی دفتر لے آئے۔ اس دوران انہوں نے طلبا کے والدین پر بھی مبینہ طور پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ اس دوران علاقہ میں کشیدگی دیکھی گئی۔ اس دوران مظاہرین پولیس اہلکاروں سے بھی الجھ پڑے۔

بعدازاں پولیس نے مداخلت کرکے معاملہ کو پرامن انداز میں حل کرلیا۔ حالات کشیدہ ہوتا دیکھ خود ڈپٹی کمشنر آف پولیس سنیہا مہرا بھی اسکول پہنچ گئیں اور امن و امان کی برقراری کےلئے علاقہ میں پولیس کی بھاری جمیعت کو تعینات کردیا۔ پولیس نے مظاہرین کو وہاں سے ہٹادیا جبکہ اس معاملہ کی تحقیقات کی جارہی ہے۔ اسکول انتظامیہ بھی اس معاملہ میں مناسب کاروائی کےلئے پولیس کے ساتھ تعاون کررہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں