حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ بھر میں خاص طور پر حیدرآباد میں فرقہ پرستوں کی جانب سے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کا سلسلہ جاری ہے۔ پولیس کی جانب سے ہندوتوا شدت پسندوں کے خلاف نرم رویہ کی وجہ سے ان کے حوصلہ بلند نظر آرہے ہیں۔
تازہ واقعہ حیدرآباد میں پیش آیا جہاں رائے درگم میں ہنوتوا اشرار نے مسلم نوجوانوں پر حملہ کرکے انہیں ’جے ایس آر‘ کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا، جس کے بعد علاقہ میں کشیدگی پھیل گئی۔ یہ واقعہ منگل 10 جون کی رات دیر گئے ایک ہوٹل چائے چسکا میں پیش آیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلم نوجوانوں نے بتایا کہ ہندوتوا شدت پسند عناصر لاٹھیوں اور تلواروں سے لیس ہوٹل میں آئے اور ہنگامہ کردیا، فرنیچر کو نقصان پہنچایا۔ مسلم نوجوانوں کا نام پوچھ کر حملہ کیا اور مارا پیٹا۔ اشرار کے حملہ میں کچھ نوجوان زخمی ہوگئے۔
حملے کی اطلاع ملتے ہی شیخ پیٹ کے نوجوان موقع پر پہنچ گئے اور فرقہ پرستوں کے خلاف احتجاج کیا۔ زخمی نوجوان نے دعویٰ کیا کہ یہ ایک منصوبہ بند حملہ تھا تاکہ حیدرآباد کا پرامن ماحول کو بگاڑا جاسکے۔ حملہ میں شرپسندوں نے مسلم نوجوانوں کی شناخت کرکے حملہ کیا۔
پولیس نے تیزی سے کارروائی کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا، حملے میں ملوث افراد کی شناخت کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی
دکن کرانیکل کی رپورٹ کے مطابق منگل کی رات تین مسلم نوجوانوں پر اشرار کی جانب سے حملہ کیا گیا۔ شرپسند عناصر دو ایس یو وی میں آئے اور ہوٹل پر حملہ کردیا، ہوٹل عملہ اور پان شاپ کے عملہ پر لوہے کی سلاخوں سے حملہ کیا۔ انہوں نے ہوٹل کے فرنیچر اور ہوٹل کے باہر کھڑی دو موٹر سائیکلوں کو توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا۔ مسلم نوجوانوں کی شناخت کرکے ان کا پیچھا کیا اور حملہ کردیا۔ حملہ میں متعدد افراد زخمی ہوگئے۔
عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور کا تعلق ہندوتوا تنظیم سے بتایا گیا۔ شرپسندوں نے مسلم نوجوانوں کو “جے ایس آر” کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا۔ اس کے بعد حملہ آور پولیس کے موقع پر پہنچنے سے پہلے ہی فرار ہو گئے۔
فرقہ وارانہ واقعہ کے بعد مقامی لوگوں کے علاوہ مسلم نوجوانوں میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔ رائے درگم انسپکٹر چودھری وینکنا نے کہا کہ “خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں تاکہ تمام مشتبہ افراد کو گرفتار کیا جا سکے جو اس واقعہ میں ملوث ہیں۔ کیمروں کی مدد سے تمام لوگوں کی نشاندہی کی گئی جو حملہ میں ملوث تھے۔
زخمی نوجوانوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یہ حملہ مسلم کمیونٹی کو نشانہ بنانے کے مقصد سے کیا گیا۔ پولیس نے علاقہ میں سیکوریٹی کو سخت کردیا۔ عوام سے گذارش کی گئی کہ کسی بھی افواہ پر توجہ نہ دیں اور امن و امان کی برقراری کےلئے پولیس کا ساتھ دیں۔


