حیدرآباد6 جنوری (پریس نوٹ) بزرگ صحافی وعلیحدہ ریاست تلنگانہ کے اولین جہد کار جناب چندر سریواستو کو میڈیا اکیڈیمی کی جانب سے تہنیت پیش کی گئی۔ اس سلسلے میں اکیڈیمی کے دفترواقع چاپل روڈ نامپلی پرایک نشست کا اہتمام کیاگیا۔
صدرنشین میڈیا اکیڈیمی کے سرینواس ریڈی نے صدرات کی۔ پریس اکیڈیمی متحدہ آندھراپردیش کے سابق صدرنشین ڈی امر۔سرکردہ صحافیوں اورمحبان چندرسریواستو کی بڑی تعداد اس موقع پر شریک تھی۔ چندرسریواستو انیس سوساٹھ کے دہے میں علیحدہ ریاست تلنگانہ کا مطالبہ کرتے ہوئے علم بلند کرنے والے واحد باحیات جہد کار ہیں۔ انہوں نے علیحدہ ریاست کی تحریک کے علاوہ متحدہ آندھراپردیش میں اردوکی کئی اہم تحریکات میں قائدانہ رول ادا کیا تھا۔
سرکردہ قومی وریاستی قائدین کے ساتھ ان کے تعلقات اور اردو صحافیوں کی اگلی نسل کوتیارکرنے ان کے دیگر کارناموں کا حوالہ دیاگیا۔صدر نشین تلنگانہ میڈیا اکیڈیمی جناب کے سرینواس ریڈی نے کہا کہ جناب چندر سریواستو کی ساری زندگی جدوجہد سے بھرپور رہی انہوں نے نہ صرف علیحدہ تلنگانہ تحریک میں نمایاں کردار ادا کیا بلکہ صحافتی دنیا میں بھی اپنے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔
جناب ڈی امر سابق صدر نشین تلنگانہ پریس اکیڈمی نے کہا کہ صحافت سے وابستہ ہونے کے بعد میں نے پہلی جس ممتاز و معروف شخصیت سے ملاقات کی تھی وہ جناب چندرسریواستو ہی تھے جن کے حسن اخلاق اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں نے مجھے بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کا موقع عطا کیا تھا ان کا رویہ ہمیشہ مشفقانہ رہا ہے انہوں نے کبھی بھی کسی کی دل آزاری نہیں کی ہر ایک کو ساتھ لے کر کام کرنے کے عادی رہے وہ ایک صحافی ہی نہیں بلکہ ایک عظیم سماجی جہد کار بھی ہیں ہم دعا کرتے ہیں کہ وہ تادیر سلامت رہیں ان سے صحافی حضرات ہی نہیں جس نے بھی ایک بار بھی ملاقات کی ہے وہ ان کی شخصیت کا گرویدہ ہو گیا ہے۔
جناب چندر سریواستو نے تہنیتی تقریب منعقد کرنے پر اظہار ممنونیت کرتے ہوئے اپنے جوابی خطاب میں حیدرآباد وریاست اورملک کے موجودہ حالات پراپنی گہری فکر ظاہرکی۔ تلنگانہ وحیدرآباد کوبچانے انہوں نے مشورے بھی دیئے۔ ملک میں صحافت کے معیار کے تنزل پرا نہوں نے کہاکہ عزت نفس کے تحفظ کے ساتھ قلم کی حرمت کو بچانے کی ضرورت ہے۔ اکیڈیمی کے سکریٹری وینکٹشور راو نے شکریہ ادا کیا۔
چندرسریواستو مختصر عرصے کےلئے حیدرآباد آئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے امریکہ میں مستقل سکونت اختیار کرلی اوروہاں ڈیموکرٹیک پارٹی کے ایک عہدے پر بھی فائز ہیں۔اس موقع پر ڈاکٹر مصطفی کمال، شوکت علی خان، ایم اے ماجد، ڈاکٹر فاضل حسین پرویز، اکبر نیرومند، ایم ایس ہاشمی، ساجدہ بیگم ثنا، محمد امجد علی اور دوسروں نے مخاطب کرتے ہوئے جناب چندرسری واستو کی صحافتی اور علمی خدمات کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ اردو صحافت میں جناب چندرسری واستو کا نام ہمیشہ روشن اور نمایاں رہے گا۔
اس موقع پر جناب سید زین العابدین، جناب سید غوث محی الدین، ڈاکٹر تبریز تاج، جناب ایم اے محسن ،جناب سید عظمت علی شاہ ،جناب غلام عباس خان ،جناب احمد مکیش، جناب شوکت علی صوفی ،جناب محمد فرہاد ،گیاتری، جناب محمد علیمالدین ،جناب رفیع الدین، جناب لیئق الدین ،جناب حسان عرفان ،جناب سعد اللہ خان سبیل ، مجتبی عابدی ، راجیشوری کلیانم اور دیگر صحافی حضرات موجود تھے۔


