حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ کے ضلع کاماریڈی سے ایک انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جس نے نہ صرف مقامی لوگوں بلکہ پوری مسلم برادری کو صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔ قرض کے بوجھ، غربت اور بیٹیوں کی پرورش کے خوف نے ایک باپ کو اس حد تک بے بس کر دیا کہ اس نے اپنی ہی تین معصوم بیٹیوں کو پانی میں ڈبو کر ہلاک کر دیا۔
پولیس کے مطابق ملزم اسماعیل پیشے سے آٹو ڈرائیور ہے جبکہ اس کی بیوی سبینہ یومیہ مزدوری کر کے گھر کا خرچ چلانے میں مدد کرتی تھی۔ ان کی تین بیٹیاں آٹھ سالہ صفت، سات سالہ آیت اور پانچ سالہ مریم گھر کی رونق تھیں۔ تاہم بدقسمتی سے یہی معصوم بچیاں اپنے ہی باپ کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتار دی گئیں۔
اطلاعات کے مطابق واقعہ کے دن بچوں کی ماں کام پر گئی ہوئی تھی۔ جب وہ شام کو گھر واپس آئی تو پڑوسیوں نے بتایا کہ بچیاں گھر پر نظر نہیں آ رہیں۔ سبینہ نے شوہر اسماعیل سے پوچھا تو اس نے مختلف اور متضاد باتیں کہیں۔ شبہ ہونے پر خاتون نے پولیس سے رجوع کیا اور شکایت درج کروائی۔
پولیس نے تفتیش کے دوران علاقے کے سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا تو اس میں بچوں کو اپنے والد کے ساتھ جاتے ہوئے دیکھا گیا۔ مزید پوچھ گچھ کے دوران اسماعیل کے بیانات میں تضاد پایا گیا جس کے بعد پولیس نے سختی سے تفتیش کی۔ بالآخر اسماعیل نے اعتراف کیا کہ اس نے اپنی تینوں بیٹیوں کو کاماریڈی کے ایک تالاب کے پاس لے جا کر پانی میں دھکا دے دیا تھا، جس سے وہ ڈوب کر ہلاک ہو گئیں۔ بعد میں پولیس نے تالاب سے تینوں بچیوں کی لاشیں برآمد کر لیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اسماعیل تقریباً پانچ لاکھ روپے کے قرض کے بوجھ تلے دباؤ میں تھا اور اسے یہ خوف تھا کہ وہ اپنی بیٹیوں کی پرورش نہیں کر سکے گا۔ کچھ اطلاعات کے مطابق وہ شراب نوشی کا بھی عادی تھا جس کی وجہ سے گھر کی مالی حالت مزید خراب ہو رہی تھی۔
یہ افسوسناک واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب پوری دنیا کے مسلمان رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں عبادت، صبر اور انسانیت کی خدمت کے جذبے کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ رمضان کے مہینے میں صاحبِ استطاعت مسلمان زکوٰۃ اور صدقات کے ذریعہ ضرورت مندوں کی مدد کرتے ہیں تاکہ کوئی شخص غربت اور مفلسی کی وجہ سے مایوسی کا شکار نہ ہو۔
اس کے باوجود اس نوعیت کا المناک واقعہ پیش آنا نہ صرف حیران کن ہے بلکہ پوری ملت اسلامیہ کے لیے لمحۂ فکریہ بھی ہے۔ ایک باپ کا اپنی ہی بیٹیوں کے ساتھ ایسا سفاکانہ سلوک یقیناً انتہائی شرمناک اور افسوسناک عمل ہے جو معاشرے کے لیے ایک عبرت کا مقام ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ معاشرہ ایسے مجبور اور پریشان حال خاندانوں کی بروقت مدد کرے تاکہ کوئی بھی شخص مایوسی اور تنگدستی کے باعث اس حد تک نہ پہنچے جہاں انسانیت ہی دم توڑ دے۔ یہ واقعہ سے ہمیں اس بات کی جانب بھی توجہ دلاتا ہے کہ غربت اور ذہنی دباؤ کے شکار افراد کو صرف تنقید نہیں بلکہ بروقت سہارا اور تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔
فی الحال پولیس نے ملزم اسماعیل کو حراست میں لے کر مقدمہ درج کر لیا ہے اور واقعہ کی مزید تفتیش جاری ہے، جبکہ معصوم بچیوں کی المناک موت نے پورے علاقے کو سوگ میں ڈبو دیا ہے۔


