حیدرآباد میں دل دہلا دینے والا واقعہ: 10 ماہ کے بیٹے کو زہر دے کر ماں کی خودکشی

حیدرآباد (دکن فائلز) شہرِ حیدرآباد کے نواحی علاقے میرپیٹ میں ایک انتہائی افسوسناک اور دل کو دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں گھریلو تنازعات اور ذہنی دباؤ کے نتیجے میں ایک نوجوان خاتون نے اپنے 10 ماہ کے معصوم بیٹے کو زہر دے کر قتل کر دیا اور بعد ازاں خود پنکھے سے لٹک کر خودکشی کر لی۔ اس المناک سانحے کو دیکھ کر مقتولہ کی ماں صدمہ برداشت نہ کر سکی اور اس نے بھی زہر پی کر خودکشی کی کوشش کی، جس کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

پولیس کے مطابق میرپیٹ پولیس اسٹیشن حدود کے جئے کرشنا انکلیو، ہستینا پورم میں رہنے والی سشمیتا (27) کی شادی چار سال قبل چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ یشونت ریڈی سے ہوئی تھی۔ اس جوڑے کو 10 ماہ کا ایک بیٹا یش وردھن ریڈی تھا۔ گزشتہ کچھ دنوں سے میاں بیوی کے درمیان گھریلو معاملات پر اختلافات چل رہے تھے، جس کے باعث سشمیتا شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھی۔

جمعرات (8 جنوری) کو، گھر میں موجودگی کے دوران سشمیتا نے پہلے اپنے کمسن بیٹے کو زہر دے دیا، جس سے اس کی موت ہو گئی۔ اس کے بعد اس نے خود کو پنکھے سے لٹکا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ جب سشمیتا کی ماں للیتا (50) نے اپنی بیٹی اور نواسے کو مردہ حالت میں دیکھا تو وہ شدید صدمے میں آ گئیں اور نامعلوم دوا پی کر خودکشی کی کوشش کی۔

رات تقریباً 9:30 بجے دفتر سے واپس آنے والے یشونت ریڈی نے گھر کے دروازے بند دیکھ کر انہیں توڑا، تو اندر کا منظر دل دہلا دینے والا تھا۔ پولیس کو فوری اطلاع دی گئی۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر للیتا کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا، جبکہ سشمیتا اور اس کے بیٹے کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے عثمانیہ اسپتال بھیج دیا گیا۔

متوفیہ کے رشتہ داروں نے الزام عائد کیا ہے کہ سشمیتا کی موت خودکشی نہیں بلکہ گھریلو تشدد کا نتیجہ ہے اور انہوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ پولیس نے اس سلسلے میں مقدمہ درج کر کے تمام پہلوؤں سے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور شواہد کی بنیاد پر اصل حقائق سامنے لائے جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں