دین محمدی کے سپاہی کی حیثیت سے فتنہ الحاد کا بھرپور مقابلہ فضلائے مدارس کا اہم ترین فریضہ! المعہد العالی الاسلامی کے جلسہ تقسیم اسناد سے مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، مولانا رضوان الدین معروفی و دیگر علماء کے خطابات

حیدرآباد (دکن فائلز) ملک کے مشہور و معروف علمی و تحقیقی ادارہ المعہد العالی الاسلامی کا 23واں سالانہ جلسہ تقسیم اسناد منعقد ہوا اس موقع پر فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ناظم معہد و صدر مسلم پر سنل لاء بورڈ نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا الحاد اس وقت کا سب سے بڑا فتنہ ہے الحاد کا مطلب صرف خدا اور مذہب کا انکار نہیں بلکہ کسی بھی بات کو قبول اور تسلیم کرنے کے لیے اس کو عقل کی ترازو میں تولنا ہے دین و شریعت کے احکام پر عمل کرنے سے پہلے اس کو اپنی سمجھ کی میزان پر پرکھنا ہے۔ افسوس کہ آج کالجز اور یونیورسٹیز کے طلبہ فتنہ الحاد سے متاثر ہیں اگرچہ کہ وہ نماز روزوں کے پابند ہے لیکن فتنہ الحاد کی وجہ سے اسلامی عقائد و نظریات اور اسلامی احکام و تعلیمات کے سلسلہ میں وہ شکوک و شبہات کا شکار ہیں انہیں اپنے اسلامی سوچ اور دینی فکر و فلسفہ پر اعتماد و اطمینان نہیں ہے۔ ان حالات میں علماء اور فضلائے مدارس کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ پوری تیاری اور بیدار مغزی کے ساتھ فتنہ الحاد کا مقابلہ کریں۔

مولانا رحمانی نے کہا کہ شریعت کی بنیاد عقل پر نہیں ہے وحی الہی پر ہے اور وحی الہی ہی علم کا سب سے یقینی اور قطعی ذریعہ ہے ہماری عقل ہمیں غلط سمجھا سکتی ہیں لیکن اللہ اور رسول کی بات کبھی غلط نہیں ہو سکتی اس لئے شرعی احکام کو سمجھنے کا معیار عقل نہیں ہے بلکہ نص یعنی کتاب و سنت ہے ہم جیسے قادیانیت اور دیگر باطل فتنوں کے بارے میں عوام کو آگاہ کرتے ہیں اسی طرح ہمیں الحاد کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے ہم دین و شریعت کے حوالہ سے ملحدانہ افکار و خیالات سے متاثر مسلمانوں کی غلط فہمیوں کو دور کریں اور دلیل کی بنیاد پر انہیں مطمئن کریں۔

مولانا نے فضلائے مدارس کو اہم پیغام دیتے ہوئے کہا علماء اس امت کے خواص ہیں اسوہ نبوی کی روشنی میں خواص کا معیار یہ ہے کہ سہولت و راحت میں نہیں بلکہ قربانی اور مشقت میں عوام سے زیادہ علماء کا حصہ اور ان کا درجہ ہوتا ہے دینی اداروں کا مقصد کسبِ معاش نہیں کسبِ معاد ہے علماء کی خدمات پیشہ ورانہ نہیں ہوتی بلکہ مخلصانہ اور بے لوث ہوتی ہیں اس لیے ہمیں اجرت سے زیادہ اجر پر نظر رکھنا چاہیے ہر دور میں انبیاء اور وارثین انبیاء کا یہی شیوہ اور شعار رہا۔

مہمان مقرر مولانا محمد رضوان الدین معروفی شیخ الحدیث جامعہ اشاعت العلوم اکل کوا نے بخاری شریف کے آخری درس کے دوران کہا : دین حق کا چراغ ہمیشہ جلتا رہے گا اس کے لیے ہمیں اخلاص نیت کے ساتھ خدمت دین کی منصوبہ بندی کرنی ہوگی پھر یہ منصوبہ بندی جب ہمارے عزم و استقلال سے مربوط و مضبوط ہوگی تو ہم اپنے مقصد و مشن میں کامیاب رہیں گے شرط یہ ہے کہ ہم حالات کے دباؤ اور وسوسوں کے شکار نہ ہوں مولانا معروفی نے کہا اللہ تعالی کی حمد و ثنا اور اس کی پاکی بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارا کمال صرف اسی کی عطا اور بخشش ہے صرف اسی کی ذات بے عیب اور بے داغ ہے کوئی ہم پر تنقید کرے تو ہم اپنے کو بے داغ اور بے عیب نہ سمجھیں مخلوق سے صلہ و ستائش کی تمنا کے بغیر ہم اپنی دینی خدمات کو انجام دیں۔

مولانا ڈاکٹر عبدالمجید نظامی سابق صدر شعبہ عربی عثمانیہ یونیورسٹی ورکن شوریٰ جامعہ نظامیہ نے کہا اللہ تعالی نے دین حق کو باقی رکھنے کے لیے دو انتظام فرمایا ہے ایک یہ کہ اللہ تعالی نے قران مجید کو کامل و مکمل فرمایا دوسرے یہ کہ قیامت تک ہر زمانہ میں اور ہر علاقہ میں ایسی شخصیات پیدا ہوتی رہیں گی جو اہل عزیمت ہوں گی جو زمانہ کے تقاضوں کے مطابق دین حق کی اشاعت و حفاظت کے لیے سرگرم رہیں گے صحابہ کرام تابعین اور تبع تابعین کے زمانے سے یہ سلسلہ جاری ہے اور دین حق کی موجودہ محنتیں بھی اسی کا تسلسل ہے۔

مولانا محمد بانعیم مظاہری نائب ناظم مجلس علمیہ نے کہا مدارس اسلامیہ پر خرچ کرنا دراصل دین حق کی خدمت میں اپنا حصہ لگانا اور پیش کرنا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم پوری نیک نیتی اور خوش دلی کے ساتھ مدارس کا تعاون کریں محمد ملحان پٹیل اور محمد حماد کی تلاوت سے جلسے تقسیم اسناد کا آغاز ہوا محمد اسجد اللہ نے ہدیہ نعت اور محمد سعد نے ترانے معہد پیش کیا۔

مولانا مفتی اشرف علی قاسمی نے استقبالیہ کلمات مولانا سرفراز احمد قاسمی نے مدرسے عبداللہ بن مسعود کی رپورٹ مولانا محمد اعظم ندوی نے شعبہ ثقافت کی رپورٹ اور مولانا محمد فرقان پالن پوری نے شعبہ تحقیق کی رپورٹ پیش کی اس کے علاوہ مولانا مفتی شاہد علی قاسمی مولانا ناظرانور قاسمی اور مولانا انظر قاسمی نے شعبہ تعلیمات کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے تقسیم اسنادات کی کاروائی میں حصہ لیا۔

مولوی محمد علقمہ عرشی نے طلبہ کی ترجمانی کرتے ہوئے اور مولوی سالم قاسمی نے طلبہ دارالقضا کے نمائندگی کرتے ہوئے اپنے تاثرات پیش کیے مولانا مفتی محمد عمر عابدین قاسمی مدنی نے اجلاس کے نظامت کی اور معہد کی سالانہ رپورٹ پیش کی۔

مولانا ارشد قاسمی نے شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر شہ نشین پر معہد کے ٹرسٹیز جناب اقبال احمد انجینئر جناب ظفر مسعود جناب عبدالجلیل خان جناب اخلاق الرحمن جناب کلیم الدین اور معززین شہر موجود تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں