حیدرآباد میں شادیوں پر کروڑوں روپئے خرچ لیکن ۔۔۔۔ ! مولانا سجاد نعمانی کا شدید ردعمل

حیدرآباد (دکن فائلز). جہاں ایک طرف آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور مختلف مسلم تنظیمیں آسان نکاح اور سادہ شادی کی مہم چلا رہی ہیں، وہیں دوسری طرف معاشرے میں فضول خرچی اور نمود و نمائش کا چلن کم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ حال ہی میں حیدرآباد میں ہونے والی ایک پرتعیش شادی نے علمائے کرام کو سونچنے پر مجبور کردیا۔ اس لعنت کے خلاف معروف عالمِ دین مولانا سجاد نعمانی نے سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں مولانا سجاد نعمانی امت کے رویوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ اگرچہ اس ویڈیو کے وقت اور مقام کی تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم ان کا پیغام واضح اور دو ٹوک ہے۔ انہوں نے ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایک بااثر صنعت کار نے اپنی بیٹی کی شادی پر تقریباً 16 کروڑ روپے خرچ کیے—چراغاں، شاہانہ دعوتیں اور بے جا آرائش پر دولت بہا دی گئی۔

لیکن اسی صنعت کار کا رویہ اپنی ہی فیکٹری میں قائم مسجد کے امام کے ساتھ نہایت افسوسناک رہا۔ مولانا کے مطابق، امام صاحب کی اہلیہ بیمار ہوئیں تو اجازت لے کر تیمارداری کے لیے گئے، مگر واپسی میں چند دن کی تاخیر پر اسی شخص نے، جو کروڑوں روپے شادی پر خرچ کر چکا تھا، امام کی تنخواہ سے چار ہزار روپے کاٹ لیے۔

مولانا سجاد نعمانی نے کہا کہ یہی وہ اخلاقی تضاد ہے جو قوم کو اندر سے کھوکھلا کرتا ہے۔ جب دولت صرف نمود و نمائش پر خرچ ہو اور انسانوں کے حقوق پامال کیے جائیں تو ایسی قوم ترقی نہیں کر سکتی۔ انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ اگر مال غلط جگہ خرچ ہو تو چاہے سو فیصد لوگ حج کر لیں یا پچاس عمرے ادا کر لیں، ذلت سے نجات ممکن نہیں۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ قوم کی اصل اصلاح عبادات کی کثرت سے نہیں بلکہ عدل، رحم، انصاف اور صحیح مصرفِ مال سے ہوتی ہے۔ جب معاشرہ اپنے ہی کمزور طبقات کے ساتھ انصاف نہیں کرے گا تو نہ ظلم رکے گا، نہ نوجوان جیلوں سے بچیں گے اور نہ ہی ظالموں کا ظلم ختم ہوگا۔

مولانا نے والدین، سرپرستوں اور نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ نکاح کو سنت کے مطابق آسان بنائیں، فضول رسموں اور اسراف سے پرہیز کریں اور نئی نسل کو دینی شعور، سادگی اور اخلاقی ذمہ داریوں کا پابند بنائیں۔ ان کے مطابق، یہی راستہ ہے جو امت کو عزت، استحکام اور فلاح کی طرف لے جا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں