حیدرآباد (دکن فائلز کی خصوصی رپورٹ) مرکزی وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن کی جانب سے پیش کردہ مودی حکومت کے تیسرے دور کے تیسرے بجٹ نے ایک بار پھر اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ حکومت نے اگرچہ اقلیتی امور کی وزارت کے بجٹ میں معمولی سا اضافہ دکھایا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ 3400 کروڑ روپے کی رقم 20 کروڑ سے زائد مسلمانوں کے لیے اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے۔
مالی سال 2026-27 کے لیے اقلیتی امور کی وزارت کو 3400 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں محض 4.38 کروڑ روپے کا معمولی اضافہ ہے۔ مہنگائی، آبادی کے دباؤ اور تعلیم، صحت و روزگار جیسے بنیادی مسائل کو دیکھتے ہوئے یہ اضافہ صرف کاغذی خانہ پُری محسوس ہوتا ہے۔
حکومت یہ دعویٰ ضرور کر رہی ہے کہ اقلیتی وزارت کے بجٹ میں کٹوتی نہیں کی گئی، مگر اگر گزشتہ ایک دہائی کے اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ 2018-19 میں 4700 کروڑ اور 2020-21 میں 5029 کروڑ تک پہنچنے والا بجٹ اب سکڑ کر 3400 کروڑ پر آ گیا ہے۔
یہ کمی اس وقت اور زیادہ معنی خیز ہو جاتی ہے جب یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ 2022-23 میں مختص 5020 کروڑ میں سے صرف 2612 کروڑ روپے ہی خرچ کیے جا سکے۔
اقلیتی وزارت کے تحت چلنے والا پردھان منتری جن وکاس پروگرام، جس کا مقصد مسلم اکثریتی علاقوں میں اسکولوں، ہاسٹلز، صحت مراکز اور بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا ہے، اس سال محض 1197.97 کروڑ روپے پر سمٹ گیا ہے۔ جبکہ اقلیتی طلبہ کی تعلیمی پسماندگی، اسکول چھوڑنے کی بلند شرح اور اعلیٰ تعلیم میں کم نمائندگی جیسے مسائل جوں کے توں موجود ہیں۔
حکومت نے خواتین کو بااختیار بنانے کے کئی دعوے کیے، مگر اقلیتی خواتین کے لیے مخصوص اور مؤثر اسکیموں کے لیے کوئی نمایاں اضافہ نہیں کیا گیا۔ مسلم خواتین آج بھی تعلیم، روزگار اور سماجی تحفظ کے میدان میں سب سے زیادہ محرومی کا شکار ہیں۔
نریندر مودی حکومت کا بار بار دہرایا جانے والا نعرہ ’سب کا ساتھ، سب کا وشواس‘ اس بجٹ میں کھوکھلا ثابت ہوتا نظر آتا ہے۔ اگر واقعی حکومت اقلیتوں کے ساتھ انصاف کرنا چاہتی، تو بجٹ میں محض چند کروڑ کا اضافہ نہیں بلکہ ٹھوس اور انقلابی مالی پیکیج پیش کیا جاتا۔
پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے باوجود بجٹ میں نہ تو اقلیتی آبادی والی ریاستوں کے لیے کوئی خاص پیکیج نظر آیا اور نہ ہی مسلمانوں کی معاشی و تعلیمی پسماندگی کو مرکزی مسئلہ بنایا گیا۔ یہ سوال اب زور پکڑ رہا ہے کہ کیا اقلیتیں صرف اعداد و شمار تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں؟
3400 کروڑ روپے کا بجٹ بظاہر اضافہ ضرور ہے، مگر حقیقت میں یہ مسلمانوں کی تعداد، مسائل اور ضروریات کے مقابلے میں نہایت قلیل ہے۔ ایسے میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اقلیتی بجٹ نمائشی ہے، جبکہ زمینی سطح پر مسلمانوں کی حالت بدلنے کے لیے سنجیدہ ارادہ نظر نہیں آتا۔


