حیدرآباد (دکن فائلز) عالمی اور مقامی منڈیوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں نے اس ہفتے غیرمعمولی گراوٹ کا سامنا کیا ہے، جسے ماہرین تاریخ کی بڑی کمیوں میں سے ایک قرار دے رہے ہیں۔ ڈالر کی قدر میں تیزی سے اضافہ اور سرمایہ کاروں کی جانب سے بڑے پیمانے پر منافع سمیٹنے کے باعث قیمتی دھاتوں کی قیمتیں اچانک زمین بوس ہو گئیں۔
جمعہ کے روز ایم سی ایکس (MCX) میں سونے کے فیوچر کی قیمت میں ایک ہی دن میں تقریباً 9 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ چاندی کے فیوچر میں 25 فیصد تک کی بھاری گراوٹ دیکھی گئی۔ ایم سی ایکس میں سونے کے فیوچر کی قیمت 1,49,075 روپے فی 10 گرام جبکہ چاندی کے فیوچر کی قیمت 2,91,922 روپے فی کلوگرام پر ٹریڈ کرتی رہی۔
انڈیا بلین اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن (IBJA) کے مطابق 24 قیراط سونے کے 10 گرام کی قیمت گزشتہ بندش 1,75,340 روپے سے کم ہو کر 1,65,795 روپے پر آ گئی ہے۔
عالمی سطح پر بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں رہی۔ بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں جمعہ کے روز فی اونس سونے کی قیمت میں 355 ڈالر کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد قیمت 5,150 ڈالر فی اونس کی سطح پر آ گئی۔ بعض رپورٹس کے مطابق ایک مرحلے پر سونا 255 ڈالر تک سستا ہو کر 4,895 ڈالر فی اونس تک بھی آ گیا تھا۔
ماہرین کے مطابق اس گراوٹ کی ایک بڑی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کیون وارش کو فیڈرل ریزرو کا آئندہ چیئرمین نامزد کرنا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ وارش افراطِ زر پر قابو پانے کے لیے سخت مانیٹری پالیسی اختیار کریں گے، جس سے ڈالر مزید مضبوط ہوا اور سونے و چاندی پر دباؤ بڑھا۔
تاہم مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ گراوٹ ایک “صحت مند اصلاح ” ہے اور طویل مدت میں قیمتی دھاتوں کی بنیادی مضبوطی برقرار رہے گی۔ مختلف ممالک کے مرکزی بینکوں کی جانب سے مسلسل سونے کی خریداری اور گرین انرجی، الیکٹرک گاڑیوں، مصنوعی ذہانت اور الیکٹرانکس کے شعبوں میں چاندی کی بڑھتی ہوئی صنعتی طلب مستقبل میں قیمتوں کو سہارا دے سکتی ہے۔
ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگر چاندی کی قیمت 3 لاکھ سے 3.10 لاکھ روپے فی کیلو تک آتی ہے تو دوبارہ خریداری کا رجحان بڑھے گا اور قیمتیں 3.40 لاکھ سے 3.50 لاکھ روپے کی سطح تک جا سکتی ہیں۔


