اقلیتی طلبا کو راحت: اسکالرشپ اور فیس ری ایمبرسمنٹ میں تاخیر، کالج انتظامیہ کی جانب سے سرٹیفکیٹس روکے جانے کی شکایت پر تلنگانہ ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ

حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے جمعرات کو ریاستی حکومت، خصوصاً محکمہ اقلیتی بہبود اور محکمہ خزانہ کو اقلیتی طلبا کی پوسٹ میٹرک اسکالرشپس اور فیس ری ایمبرسمنٹ میں تاخیر پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ عدالت نے ہدایت دی کہ ایسا مؤثر شکایتی نظام قائم کیا جائے جس کے تحت طلبا کو اپنے اصل سرٹیفکیٹس کی واپسی کے لیے انفرادی طور پر عدالتوں کے دروازے نہ کھٹکھٹانے پڑیں۔

چیف جسٹس آپریش کمار سنگھ اور جسٹس جی ایم محی الدین پر مشتمل ڈویژن بنچ ایک عوامی مفاد کی عرضی کی سماعت کر رہا تھا، جو ایسوسی ایشن فار سوشیو اکنامک ایمپاورمنٹ آف دی مارجلنائزڈ کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔

عدالت نے نوٹ کیا کہ محکمہ اقلیتی بہبود نے اپنے کاؤنٹر حلف نامے میں 23 فروری 2024 کا ایک سرکاری سرکلر پیش کیا ہے، جس میں تمام منسلک نجی کالجوں اور نجی یونیورسٹیوں کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ حکومت کی جانب سے فیس ری ایمبرسمنٹ یا اسکالرشپ کی ادائیگی میں تاخیر کی بنیاد پر طلبہ کے اصل سرٹیفکیٹس ضبط نہ کریں۔ سرکلر میں خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی وارننگ بھی دی گئی تھی، مگر عدالت نے مشاہدہ کیا کہ اس پر مؤثر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔

بنچ نے کہا کہ ہر سال اسکالرشپس کی ادائیگی میں تاخیر ایک معمول بن چکی ہے، جس کا خمیازہ براہ راست غریب اور اقلیتی طلبہ کو بھگتنا پڑتا ہے۔ عدالت نے محکمہ خزانہ کو اس صورتحال کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلوں کو بلا وجہ روکے جانے سے تعلیمی نظام متاثر ہو رہا ہے۔

عرضی گزاروں کے وکیل سید مونس عابدی نے عدالت کو بتایا کہ محکمہ خزانہ نے بار بار مواقع ملنے کے باوجود اپنا جواب داخل نہیں کیا، جبکہ فنڈز کے اجرا کی تجاویز بغیر کسی وضاحت کے زیر التوا رکھی جا رہی ہیں۔

عدالت نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی طالب علم کا سرٹیفکیٹ چھ ماہ کے لیے بھی روکا جائے تو اس سے اس کے تعلیمی اور پیشہ ورانہ مستقبل کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ عدالت نے اسے ستم ظریفی قرار دیا کہ مالی طور پر کمزور طلبہ، جو اسکالرشپس پر تعلیم حاصل کر رہے ہیں، انہیں اپنے ہی حقوق کے لیے عدالتوں اور انسانی حقوق کمیشن سے رجوع کرنا پڑ رہا ہے۔

ہائی کورٹ نے محکمہ اقلیتی بہبود کو ہدایت دی کہ وہ ایک باضابطہ شکایتی نظام، ہیلپ ڈیسک یا ٹول فری نمبر قائم کرے اور کالجوں کی جانب سے سرکلر پر عمل درآمد کی نگرانی کرے۔ محکمہ خزانہ کو دو ہفتوں کے اندر اپنا کاؤنٹر حلف نامہ داخل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ معاملے کی اگلی سماعت 3 مارچ کو مقرر کی گئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں