یونین بجٹ 2026-27: ترقی اور اصلاحات کا روڈ میاپ! کیا سستا ہوا، کیا مہنگا اور کن شعبوں کو کتنا بجٹ ملا؟ (خصوصی رپورٹ)

حیدرآباد (دکن فائلز کی خصوصی رپورٹ) مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے اتوار یکم فروری کو پارلیمنٹ میں یونین بجٹ 2026-27 پیش کیا، جو ان کا مسلسل نواں بجٹ ہے۔ وزیر خزانہ نے اسے تین بنیادی کرتویوں (ذمہ داریوں) پر مبنی قرار دیا، تیز اور پائیدار اقتصادی ترقی، عوامی امنگوں کی تکمیل اور ہر خطہ و طبقہ تک مواقع کی رسائی۔ عالمی غیر یقینی حالات کے باوجود حکومت نے ضبطِ مالی، اصلاحات اور سرمایہ کاری پر زور دیا ہے۔

بجٹ تقریر جو 124 منٹ طویل رہی، اس میں حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے مالی خسارہ جی ڈی پی کا 4.3 فیصد مقرر کیا، جبکہ قرض سے جی ڈی پی کا تناسب کم ہو کر 55.6 فیصد رہنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ سرمایہ جاتی اخراجات (کیپیکس) کو بڑھا کر 12.2 لاکھ کروڑ روپے کردیا گیا، جو بنیادی ڈھانچے اور روزگار کے لیے کلیدی سمجھا جا رہا ہے۔

ٹیکس اور انکم ٹیکس سے متعلق بڑے فیصلے:
* آئی ٹی آر-1 اور آئی ٹی آر-2 فائل کرنے کی آخری تاریخ 31 جولائی۔
* نان آڈٹ کاروباری معاملات اور ٹرسٹس کے لیے 31 اگست تک ریٹرن داخل کرنے کی اجازت۔
* معمولی فیس کے ساتھ ریٹرن میں نظرثانی کے لیے مزید وقت۔
* اسیسمنٹ مکمل ہونے کے بعد بھی اپڈیٹڈ ریٹرن داخل کی جا سکے گی۔
* انکم ٹیکس ایکٹ کے تحت پراسی کیوشن فریم ورک کو معقول بنانے کی تجویز۔
* این آر آئی کی جائیداد فروخت پر ٹی ڈی ایس مقامی خریدار کے ذریعے کٹے گا۔
* بائی بیک پر ٹیکس تمام شیئر ہولڈرز کے لیے کیپیٹل گین کے طور پر۔
* آئی ٹی سروسز کے لیے سیف ہاربر حد 300 کروڑ سے بڑھا کر 2,000 کروڑ روپے، اور مارجن 15.5 فیصد مقرر۔

نوٹ: عام انکم ٹیکس دہندگان کو اس بار اسٹینڈرڈ ڈیڈکشن یا ٹیکس ریبیٹ میں کوئی براہِ راست راحت نہیں دی گئی۔

کیا چیزیں سستی ہوں گی؟
* بیرونِ ملک سیاحتی پیکجز
* غیر ملکی تعلیم
* کینسر کی 17 ضروری ادویات (بیسک کسٹمز ڈیوٹی ختم)
* مزید 7 نایاب بیماریوں کی ادویات (ذاتی درآمد پر ڈیوٹی چھوٹ)
* جوتے، لیدر مصنوعات
* انرجی ٹرانزیشن آلات
* مائیکرو ویو اوون، ٹی وی اور کیمرہ آلات
* ویڈیو گیمز کے مینوفیکچرنگ پارٹس
* کافی اور وینڈنگ مشینیں
* نیوکلیئر پاور پروجیکٹس کے لیے درآمدی آلات (2035 تک ڈیوٹی چھوٹ)

کیا چیزیں مہنگی ہوں گی؟
* انکم ٹیکس میں غلط بیانی: ٹیکس کے 100 فیصد تک جرمانہ
* منقولہ اثاثوں کی عدم ظاہرکاری
* اسٹاک آپشنز اور فیوچر ٹریڈنگ
* کوئلہ

اہم شعبوں کے لیے بجٹ اور بڑے اعلانات:

ریاستیں اور مالی نظم: فینانس کمیشن گرانٹس: 1.4 لاکھ کروڑ روپے ریاستوں کے لیے۔

دفاع:
مجموعی دفاعی بجٹ: 7.85 لاکھ کروڑ روپے
جدید کاری کے لیے: 2.19 لاکھ کروڑ روپے (21.84 فیصد اضافہ)

ایم ایس ایم ای اور صنعت:
ایس ایم ای ترقی کے لیے: 10,000 کروڑ روپے
’کارپوریٹ متراس‘ کے ذریعے ایم ایس ایم ای کو ضابطہ جاتی مدد
کنٹینر مینوفیکچرنگ اسکیم: 10,000 کروڑ
200 قدیمی صنعتی کلسٹرز کی بحالی

ٹیکنالوجی اور سیمی کنڈکٹر:
انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن 2.0: 40,000 کروڑ روپے (5 سال)
اے آئی سمیت نئی ٹیکنالوجیز کے اثرات کے جائزے کے لیے کمیٹی

صحت:
’بائیوفارما شکتی‘ مشن: 10,000 کروڑ روپے (5 سال)
1,000 منظور شدہ کلینیکل ٹرائل سائٹس
آیوش، ڈائگنوسٹکس اور پوسٹ کیئر کے ساتھ میڈیکل ہب

زراعت و دیہی ترقی:
کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے لیے ہدفی اقدامات
500 ذخائر (ریزروائرز) کی ترقی
مویشی پروری کے لیے کریڈٹ لنکڈ سبسڈی
کاجو اور کوکو کے لیے مخصوص پروگرام
مہاتما گاندھی گرام سماج اقدام (کھادی و دستکاری)

خواتین اور روزگار:
سیلف ہیلپ انٹرپرینیور (SHE) مارٹس
کمیونٹی ملکیتی ریٹیل آؤٹ لیٹس
خواتین اور نوجوانوں پر مرکوز پروگرام

ریلوے اور بنیادی ڈھانچہ:
7 ہائی اسپیڈ ریل کوریڈورز بطور گروتھ کنیکٹر
اگلے 5 برس میں 20 نئی قومی آبی گزرگاہیں
ٹائر-2 اور ٹائر-3 شہروں میں انفراسٹرکچر پر خصوصی توجہ
ایسٹ کوسٹ ڈیولپمنٹ کوریڈور

بینکنگ، مارکیٹس اور معیشت:
بینکنگ سیکٹر کے لیے ہائی لیول کمیٹی
فارن ایکسچینج مینجمنٹ فریم ورک کا جامع جائزہ
غیر ملکی افراد کو بھارتی ایکویٹیز میں براہِ راست سرمایہ کاری کی اجازت
کارپوریٹ بانڈز کے فروغ کے لیے مارکیٹ میکنگ فریم ورک

سیاحت:
1.5 لاکھ کیئر گیورز کی تربیت
میڈیکل ویلیو ٹورزم کے حب
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہاسپیٹیلٹی کا قیام

اپنا تبصرہ بھیجیں