حیدرآباد (دکن فائلز) راجستھان کے سری گنگانگر ضلع میں پیش آنے والا ایک دل دہلا دینے والا واقعہ اب محض ہٹ اینڈ رن نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش ثابت ہوا ہے، جسے پولیس نے راجستھان کی ’ہنی مون مرڈر‘ قرار دیا ہے۔ یہ واقعہ میگھالیہ میں پیش آئے راجہ رگھوونشی قتل کیس کی یاد دلاتا ہے، جہاں بیوی نے اپنے عاشق کے ساتھ مل کر شوہر کو قتل کروایا تھا۔
این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق واردات 30 جنوری کی شام کا ہے، جب اشیش اور انجو، جو کہ تین ماہ قبل شادی کے بندھن میں بندھے تھے، شام کی سیر کے لیے نکلے۔ اسی دوران ایک سنسان سڑک پر اشیش پر حملہ کیا گیا اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا، جبکہ انجو نے دعویٰ کیا کہ وہ بے ہوش ہو گئی اور اس کے زیورات لوٹ لیے گئے۔
سری گنگانگر کی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس امرتا دھون کے مطابق پولیس کو رات تقریباً 9 بجے اطلاع ملی کہ ایک جوڑا سڑک پر بے ہوش حالت میں پڑا ہے۔ دونوں کو کمیونٹی ہیلتھ سینٹر لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اشیش کو مردہ قرار دے دیا۔ ابتدائی طور پر معاملہ نامعلوم گاڑی کی ٹکر کا بتایا گیا، تاہم فرانزک جانچ اور پوسٹ مارٹم رپورٹ نے کہانی کا رخ بدل دیا۔
طبی رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ اشیش کے جسم پر تشدد کے واضح نشانات تھے اور اس کا گلا دبایا گیا تھا، جبکہ انجو کو کوئی خاص چوٹ نہیں آئی تھی۔ یہی تضاد پولیس کے شکوک کی بنیاد بنا۔ مزید تحقیقات میں انجو کے موبائل فون ریکارڈز سامنے آئے، جن سے معلوم ہوا کہ وہ مسلسل سنجو نامی شخص کے رابطے میں تھی، جو اس کا سابق بوائے فرینڈ تھا اور اس کے گھر کے قریب ہی رہتا تھا۔
پولیس کے مطابق شادی کے فوراً بعد انجو اپنے شوہر سے ناخوش تھی اور واپس اپنے میکے چلی گئی تھی، جہاں اس نے سنجو سے دوبارہ تعلقات قائم کیے۔ اسی دوران اشیش کے قتل کی منصوبہ بندی کی گئی۔ 30 جنوری کی رات انجو اشیش کو ایک سنسان سڑک پر سیر کے بہانے لے گئی، جہاں سنجو اور اس کے دو ساتھی، راکی عرف روہت اور بادل عرف سدھارتھ پہلے سے جھاڑیوں میں چھپے ہوئے تھے۔
ملزمان نے اشیش پر بے رحمانہ حملہ کیا، اسے گلا گھونٹ کر قتل کیا اور واقعے کو حادثہ ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ انجو نے اپنے فون اور کان کی بالیاں جان بوجھ کر ملزمان کو دے دیں تاکہ لوٹ مار کا تاثر دیا جا سکے، جبکہ وہ خود بے ہوشی کا ڈرامہ کرتی رہی۔ تاہم پولیس کے مطابق انجو کے بیانات میں بار بار تبدیلی اور شواہد کی عدم مطابقت نے پوری سازش کو بے نقاب کر دیا۔
پولیس نے انجو سمیت چاروں ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے اور معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔


