دہلی فسادات: مسلم نوجوان فیضان کی المناک ہلاک، سی بی آئی نے قتل کی دفعہ کو ہی ہٹا دیا، پولیس اہلکاروں پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کا الزام برقرار، تحقیقات پر تشویش

حیدرآباد (دکن فائلز) شمال مشرقی دہلی میں 2020 کے فرقہ وارانہ فسادات کے دوران 23 سالہ مسلم نوجوان فیضان کی المناک ہلاکت کے معاملہ میں سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن نے اپنی چارج شیٹ میں قتل (دفعہ 302) کو شامل نہ کرتے ہوئے دو دہلی پولیس اہلکاروں کے خلاف نسبتاً ہلکی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ اس فیصلہ نے ایک بار پھر انصاف، پولیس جواب دہی اور اقلیتی حقوق سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

سی بی آئی نے ہیڈ کانسٹیبل رویندر کمار اور کانسٹیبل پون یادو کے خلاف بھارتی تعزیراتِ ہند کی دفعات 323 (جان بوجھ کر چوٹ پہنچانا)، 325 (سنگین چوٹ پہنچانا) اور 304(II) (قتلِ خطا جو قتل کے زمرے میں نہیں آتا) کے تحت چارج شیٹ داخل کی ہے، جس میں زیادہ سے زیادہ دس سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

یہ کیس اس وقت قومی سطح پر موضوعِ بحث بنا جب ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں دہلی پولیس کے اہلکاروں کو فیضان اور دیگر مسلم نوجوانوں کو لاٹھیوں سے مارتے اور زبردستی قومی ترانہ اور ’وندے ماترم‘ گانے پر مجبور کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ شدید تشدد کے بعد فیضان کو حراست میں رکھا گیا اور اہلِ خانہ کے مطابق اسے بروقت طبی امداد فراہم نہیں کی گئی، جس کے نتیجے میں وہ 26 فروری 2020 کو دم توڑ گیا۔

فیضان کی والدہ کی درخواست پر 2024 میں دہلی ہائی کورٹ نے کیس دہلی پولیس سے واپس لے کر سی بی آئی کو منتقل کیا تھا۔ جسٹس انوپ جے رام بھمبھانی نے اپنے فیصلے میں اس واقعہ کو واضح طور پر “ہیٹ کرائم” قرار دیتے ہوئے دہلی پولیس کی تفتیش کو “سست، سطحی اور جانبدارانہ” کہا تھا۔ عدالت نے اس امر پر بھی سخت تشویش ظاہر کی تھی کہ جن اہلکاروں پر الزام ہے وہی تحقیقاتی نظام کا حصہ تھے، جو انصاف پر عوامی اعتماد کو مجروح کرتا ہے۔

حال ہی میں ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ ماینک گوئل نے سی بی آئی کی چارج شیٹ کا نوٹس لیتے ہوئے دونوں اہلکاروں کو 24 فروری کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ریکارڈ پر موجود شواہد دفعات 323، 325 اور 304(II) کے تحت مقدمہ چلانے کے لیے کافی ہیں۔

اگرچہ سی بی آئی نے قتل کی دفعہ شامل نہ کرنے کی وضاحت یہ دی ہے کہ تفتیش میں “قتل کی نیت” ثابت نہیں ہو سکی، تاہم انسانی حقوق کے کارکنوں اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ریاستی تشدد، مذہبی بنیاد پر تذلیل اور طبی امداد سے انکار جیسے عوامل اس کیس کو محض ایک عام ہلاکت نہیں رہنے دیتے۔

پانچ سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود انصاف کی یہ جدوجہد اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ جب قانون کے محافظ ہی قانون توڑنے والے بن جائیں تو انصاف کا راستہ کتنا طویل اور تکلیف دہ ہو جاتا ہے۔ فیضان کی موت کو پولیس اصلاحات، جواب دہی اور اقلیتوں کے تحفظ کے حوالے سے ہندوستانی جمہوریت کے لیے ایک سخت امتحان قرار دیا جارہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں