حیدرآباد (دکن فائلز) حیدرآباد کے نامپلی علاقہ میں واقع فرانزک سائنس لیباریٹری میں ہفتہ کی صبح اچانک شدید آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا، جس سے علاقہ میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ آگ عمارت کے پہلے فلور میں واقع کمپیوٹر لیب میں لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے دیگر حصوں تک پھیل گئی، جس کے نتیجے میں عمارت میں گھنا دھواں بھر گیا۔
واقعہ صبح تقریباً 10:30 بجے پیش آیا۔ دھواں دیکھتے ہی لیب میں موجود عملہ شدید خوفزدہ ہوگیا اور جان بچانے کے لیے باہر کی طرف دوڑ پڑا۔ خوش قسمتی سے اس وقت دفتر مکمل طور پر کھلا نہیں تھا اور صرف چار ملازمین موجود تھے، جو بحفاظت باہر نکل آئے۔
اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کی ٹیمیں پانچ فائر انجنوں کے ساتھ موقع پر پہنچیں اور کافی جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پا لیا۔ حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں آگ لگنے کی وجہ شارٹ سرکٹ بتائی جا رہی ہے۔
آگ لگنے کی اطلاع ملتے ہی نارتھ زون ڈی آئی جی شویتا اور خیریت آباد زون کی ڈی سی پی شلپاولّی موقع پر پہنچیں اور حالات کا جائزہ لیا۔ ڈی سی پی شلپاولّی نے بتایا کہ فرانزک لیب سے جرائم کی تحقیقات سے متعلق اہم فائلیں اور شواہد کا پورا نظام چلتا ہے، تاہم تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ آگ میں کونسی فائلیں یا شواہد متاثر ہوئے ہیں۔
ابتدائی معلومات کے مطابق کمپیوٹر، الیکٹرانک آلات اور دیگر تکنیکی سامان کو نقصان پہنچا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس لیب میں کئی حساس اور ہائی پروفائل مقدمات، جن میں مبینہ طور پر “ووٹ کے بدلے نوٹ” جیسے معاملات کے شواہد بھی شامل ہیں، محفوظ ہیں۔
فی الحال آگ پر مکمل طور پر قابو پا لیا گیا ہے، جبکہ حکام کی جانب سے نقصانات کا جائزہ اور تفصیلی تحقیقات جاری ہیں۔


