حیدرآباد (دکن فائلز) انسانی حقوق کے معروف کارکن ہرش مندر نے آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کی جانب سے ان کے خلاف کم از کم 100 مقدمات درج کرنے کی دھمکی کو انسانی حقوق کے محافظوں کو ڈرانے اور اختلاف رائے کو خاموش کرانے کی کھلی کوشش قرار دیا ہے۔ یہ ردعمل اس پولیس شکایت کے بعد سامنے آیا ہے جو ہرش مندر نے دہلی میں وزیر اعلیٰ کے خلاف بنگالی نژاد مسلمانوں کے خلاف مبینہ نفرت انگیز تقاریر پر درج کروائی ہے۔
انگریزی نیوز پورٹل مکتوب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ہرش مندر نے کہا کہ کسی بھی قسم کی دھمکی یا دباؤ انہیں عوام کے بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھانے سے نہیں روک سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک موجودہ وزیر اعلیٰ کا قانونی شکایت کے جواب میں اجتماعی مقدمات کی دھمکی دینا اس بات کی علامت ہے کہ شکایت سنجیدہ ہے اور اس کا سامنا دلیل کے بجائے خوف کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔
ہرش مندر نے اس ہفتے کے آغاز میں دہلی کے حوض خاص پولیس اسٹیشن میں درخواست دی تھی کہ بھارتیہ نیائے سنہیتا کے تحت آسام کے وزیر اعلیٰ کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔ شکایت میں دشمنی کو فروغ دینے، قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے، عوامی بدامنی پھیلانے اور مذہبی جذبات کو مجروح کرنے جیسے الزامات شامل ہیں۔ تاہم دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ شکایت کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور فی الحال ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔
شکایت میں ہیمنت بسوا سرما کے متعدد عوامی بیانات کا حوالہ دیا گیا ہے، جن میں انہوں نے لوگوں سے ’میاں‘ کو پریشان کرنے کی بات کہی۔ ’میاں‘ آسام میں بنگالی نژاد مسلمانوں کے لیے استعمال ہونے والی ایک توہین آمیز اصطلاح سمجھی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ وزیر اعلیٰ نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ خصوصی گہری نظرثانی کے عمل کے دوران چار سے پانچ لاکھ ’میاں‘ ووٹروں کو انتخابی فہرست سے خارج کر دیا جائے گا۔
ہرش مندر نے کہا کہ یہ محض سیاسی بیان بازی نہیں بلکہ ایک مخصوص مذہبی اور لسانی برادری کو غیر انسانی بنانے اور انہیں سیاسی و سماجی طور پر نشانہ بنانے کی کھلی اپیل ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جب نفرت پر مبنی زبان ریاستی طاقت کے ساتھ جڑ جاتی ہے تو وہ زمینی سطح پر ہراسانی، تشدد اور خوف کو جنم دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے الفاظ محض الفاظ نہیں رہتے بلکہ وہ لوگوں کو ظلم پر اکساتے ہیں۔ ان کے مطابق حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی ویڈیوز میں دیکھا گیا ہے کہ رکشہ چلانے والوں کو ان کی جائز اجرت دینے سے انکار کیا جا رہا ہے، جو اسی نفرت انگیز بیانیے کا نتیجہ ہے۔
ہرش مندر نے وزیر اعلیٰ کے اس بیان پر سوال اٹھایا کہ ’لوگوں کو تکلیف دینا ان کا کام ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ کیا واقعی یہ کسی وزیر اعلیٰ کا آئینی فریضہ ہو سکتا ہے؟ انہوں نے ووٹر لسٹ سے بڑے پیمانے پر نام خارج کرنے کی دھمکی کو ووٹ کے آئینی حق پر حملہ قرار دیا اور کہا کہ انتخابی جانچ کو کسی بھی صورت فرقہ وارانہ مشق نہیں بنایا جا سکتا۔
انہوں نے اس بات پر بھی شدید تشویش ظاہر کی کہ نہ کوئی آئینی ادارہ اور نہ ہی الیکشن کمیشن ان کھلے بیانات پر نوٹس لے رہا ہے، جو ایک خطرناک مثال ہے۔ انہوں نے اسے سنگین آئینی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو زبردستی بے دخل کرنا یا سرحد پار دھکیلنا غیر قانونی اور غیر انسانی عمل ہے۔
این آر سی کے حوالے سے وزیر اعلیٰ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ہرش مندر نے کہا کہ ان کا کردار صرف انسانی ہمدردی، قانونی مدد اور کمزور طبقات کے حقوق کے تحفظ تک محدود تھا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ این ایچ آر سی کی جانب سے حراستی مراکز میں جانے والے واحد غیر سرکاری فرد تھے، جہاں حالات نہایت غیر انسانی تھے۔ این ایچ آر سی کی عدم توجہی کے بعد انہوں نے استعفیٰ دے کر ’کاروانِ محبت‘ کے تحت کام شروع کیا۔
ہرش مندر نے کہا کہ وہ دہلی پولیس سے غیر جانبدارانہ تحقیقات اور ایف آئی آر کے اندراج کی توقع رکھتے ہیں۔ اگر پولیس نے کارروائی نہ کی تو وہ عدالتوں سے رجوع کریں گے، حتیٰ کہ سپریم کورٹ تک جائیں گے۔ انہوں نے آسام کے مسلمانوں کو پیغام دیا کہ وہ اکیلے نہیں ہیں اور آئین اب بھی ان کے ساتھ کھڑا ہے۔


