حجاب خواتین کے لیے ایمان، شناخت اور فخر کی علامت! ظہران ممدانی کے شاندار بیان پر شدت پسند چیخ اٹھے

حیدرآباد (دکن فائلز) نیویارک شہر کے میئر ظہران ممدانی عالمی یوم حجاب کے موقع پر ایک سرکاری پوسٹ کے بعد تنازعات میں گھر گئے ہیں۔ پوسٹ میں حجاب کو مسلمان خواتین کے لیے ایمان اور فخر کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق نیویارک شہر کے میئر ظہران ممدانی عالمی یوم حجاب کے موقع پر سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کے بعد تنازعات میں گھر گئے ہیں۔

ایکس پر ان کے آفس آف امیگرنٹ افیئرز کی جانب سے شیئر کی گئی پوسٹ میں حجاب کو مسلمان خواتین کے لیے ایمان، شناخت اور فخر کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ ایران میں حجاب کے لازمی قوانین کے خلاف جاری مظاہروں کے تناظر میں اس پیغام کو اہمیت حاصل ہوگئی ہے۔

یکم فروری کو ’ورلڈ حجاب ڈے‘ کے موقع پر انہوں نے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا گیا، “آج ہم دنیا بھر میں ان مسلم خواتین اور لڑکیوں کے ایمان، شناخت اور فخر کا جشن مناتے ہیں جو حجاب پہننے کا انتخاب کرتی ہیں۔” اس بیان پر کچھ ناسمجھ اور شدت پسندوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا، خاص طور پر وہ لوگ جنہوں نے ایران میں حجاب نہ پہننے پر خواتین کی گرفتاریوں کی طرف اشارہ کیا۔

ایرانی نژاد امریکی صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن مسیح علی نژاد نے میئر ممدانی کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نیویارک جیسے آزاد شہر میں عالمی یوم حجاب منانا ان کے لیے اذیت ناک ہے، جب ایران میں خواتین کو حجاب پہننے سے انکار پر جیلوں میں ڈالا اور قتل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایسی پوسٹیں ظالموں کے ساتھ کھڑے ہونے کے مترادف ہیں اور ایران میں خواتین پر ہونے والے ظلم پر ظہران ممدانی کی خاموشی شرمناک ہے۔

ترک نژاد امریکی ماہر معاشیات تیمور کوران نے کہا کہ حجاب اسلام کے اندر بھی ایک متنازعہ علامت ہے اور بہت سے ممالک میں اسے فخر کے طور پر نہیں بلکہ ظلم کی ایک شکل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ کسی مخصوص مذہبی لباس کی سرکاری تسبیح مذہبی تعصب کو فروغ دے سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں