مسقط میں ایران اور امریکہ کے درمیان اہم مذاکرات کا آغاز، دنیا کی سانسیں تھم گئیں

حیدرآباد (دکن فائلز) ایران اور امریکہ کے درمیان طویل عرصے بعد ایک بار پھر اہم جوہری مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے۔ عمان کے دارالحکومت مسقط میں شروع ہونے والی ان بات چیت کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں نہایت اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ مذاکرات عمان کی ثالثی میں ہو رہے ہیں، تاہم ایرانی اور امریکی وفود کے درمیان بات چیت بالواسطہ انداز میں جاری ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق مذاکرات میں ایران کی قیادت وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کر رہے ہیں، جن کے ہمراہ نائب وزیرِ خارجہ برائے سیاسی امور مجید تخت روانچی، وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی، نائب وزیر خارجہ برائے اقتصادی امور حامد غنباری اور دیگر سینئر سفارت کار شامل ہیں۔

امریکی وفد کی نمائندگی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف کر رہے ہیں، جبکہ بعض ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کی شمولیت بھی متوقع ہے۔ اس دوران ایسا لگ رہا ہے کہ دنیا کی سانسیں تھم گئی ہیں۔

مذاکرات سے قبل ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ایران نے دیانت داری اور باہمی احترام کی بنیاد پر سفارت کاری کا راستہ اختیار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ حقیقت پسندانہ رویہ اپنائے تو بات چیت آگے بڑھ سکتی ہے۔ ایرانی موقف ہے کہ مذاکرات دباؤ، دھمکی یا پابندیوں کے سائے میں نہیں بلکہ برابری کی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔

دوسری جانب امریکہ نے مذاکرات سے قبل ایران میں مقیم اپنے شہریوں کے لیے سخت ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر ملک چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔ امریکی ورچوئل ایمبیسی کی جانب سے جاری بیان میں سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دیا گیا ہے، جسے مبصرین مذاکراتی دباؤ کی حکمتِ عملی سے بھی جوڑ رہے ہیں۔

واضح رہے کہ ایران اور امریکہ کے تعلقات گزشتہ کئی برسوں سے شدید کشیدگی کا شکار رہے ہیں، خاص طور پر ایران کے جوہری پروگرام، امریکی اقتصادی پابندیوں اور مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی صورتحال کے باعث۔ صدر ٹرمپ کے سابقہ دورِ حکومت میں سخت پابندیوں کے نفاذ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات معطل ہو گئے تھے۔

حالیہ مہینوں میں خطے میں بڑھتی کشیدگی، اسرائیل، ایران اور امریکہ کے بیانات، اور عالمی دباؤ کے نتیجے میں ایک بار پھر سفارتی رابطوں کی کوششیں تیز ہوئیں، جن میں مسقط مذاکرات کو ممکنہ پیش رفت کی ایک اہم کڑی سمجھا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں