سعودی عرب میں پہلا روزہ کب ہوگا؟ ماہرین فلکیات کی پیش گوئی

حیدرآباد (دکن فائلز) سعودی عرب میں ماہرینِ فلکیات اور موسمیات نے فروری کے آسمان میں نظر آنے والے نمایاں فلکیاتی مظاہر کے ساتھ ساتھ سال 1447 ہجری کے لیے ماہِ رمضان المبارک کے آغاز اور عیدالفطر کے متوقع تواریخ سے پردہ اٹھا دیا ہے۔

ماہرِ موسمیات ڈاکٹر خالد الزعاق کے مطابق فلکیاتی حسابات کی بنیاد پر ماہِ رمضان کا چاند منگل 29 شعبان 1447 ہجری کو سہ پہر 3 بجکر 01 منٹ پر پیدا ہوگا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ چاند غروبِ آفتاب کے بعد بھی افق پر موجود رہے گا، جو فلکیاتی اعتبار سے رمضان المبارک کے آغاز کے قوی امکان کی تصدیق کرتا ہے۔ ان کے مطابق چہارشنبہ 18 فروری 2026 کو رمضان المبارک کا پہلا دن ہونے کا امکان ہے، جبکہ اگر مہینہ تیس دن مکمل ہوا تو جمعہ 20 مارچ 2026 کو عیدالفطر منائی جاسکتی ہے۔

دوسری جانب معروف موسمی اور آب و ہوا کے محقق عبدالعزیز الحصینی نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر بتایا کہ فلکیاتی حسابات کے مطابق رواں سال شعبان کے مہینے کے 29 دن ہوں گے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب میں حتمی فیصلہ شرعی رویتِ ہلال کے مطابق ہی کیا جاتا ہے۔ گزشتہ برسوں کے مشاہدات کی روشنی میں انہوں نے بھی چہارشنبہ 18 فروری کو رمضان المبارک کے آغاز کا امکان ظاہر کیا ہے۔

جدہ فلکیاتی سوسائٹی کے سربراہ انجینئر ماجد ابو زاہرہ کے مطابق فروری کا مہینہ فلکیاتی مظاہر کے لحاظ سے نہایت اہم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مہینہ کے آغاز میں مکمل چاند (بدر) کی وجہ سے مدھم اجرامِ فلکی کا مشاہدہ متاثر ہوگا۔ ماہرین کے مطابق 18 فروری کی شام مغربی افق پر عطارد اور زہرہ کے درمیان رمضان کا باریک چاند نظر آ سکتا ہے، جبکہ 19 فروری کو بڑھتا ہوا چاند زحل کے قریب دکھائی دے گا۔ اس کے علاوہ فروری کے دوران مشتری، زحل، ثریا، سدیم الجبار اور دیگر نمایاں ستارے آسمان پر مشاہدے کے لیے موجود رہیں گے۔

ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ فروری کا آسمان علمِ فلکیات میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے غیر معمولی مواقع فراہم کرتا ہے، اگرچہ 17 فروری کو واقع ہونے والا سورج گرہن سعودی عرب اور عرب دنیا میں نظر نہیں آئے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں