حیدرآباد (دکن فائلز) جیسے جیسے آسام میں آئندہ اسمبلی انتخابات قریب آ رہے ہیں، وزیراعلیٰ ہیمنتا بسوا سرما کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات میں واضح اور تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ اپنی سیاسی بقا اور اقتدار برقرار رکھنے کے لیے ہندو اور مسلم عوام کے درمیان نفرت کی خلیج کو گہرا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ مذہبی پولرائزیشن کے ذریعہ زیادہ سے زیادہ ہندو ووٹ حاصل کیے جا سکیں۔ تاہم، عوام کے ایک بڑے طبقہ کی جانب سے ان بیانات کو سخت ناپسندیدگی کا سامنا ہے۔
’ستیہ ہندی‘ کی رپورٹ کے مطابق ہیمنتا بسوا سرما نے اب ’’میاں‘‘ برادری کے خلاف اپنی متنازع اور مبینہ نفرت انگیز مہم کو ایک نیا رخ دیتے ہوئے مہاتما گاندھی کے عدم تعاون اور سول نافرمانی کے اصولوں کا حوالہ دیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان اصولوں کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے کہ آسام میں ایسا ماحول پیدا ہو جائے جہاں ’’میاں‘‘ برادری کے لوگ خود کو یہاں غیر محفوظ محسوس کریں اور ریاست چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں۔
ضلع شیو ساگر میں ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ہیمنتا بسوا سرما نے دعویٰ کیا کہ ’’ہر روز 20 سے 30 افراد کو ریاست سے باہر نکالا جا رہا ہے‘‘، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ سب کو ایک ساتھ قطار میں کھڑا کر کے بنگلہ دیش نہیں بھیجا جا سکتا، اس لیے ضروری ہے کہ ایسے حالات پیدا کیے جائیں کہ وہ خود ہی آسام چھوڑ دیں۔ انہوں نے کہا کہ اب تک 1.5 لاکھ ایکڑ زمین سے بے دخلی کی جا چکی ہے اور اگر زمین، روزگار اور ذرائع آمد و رفت میسر نہ ہوں تو لوگ خود ہی چلے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ رکشہ، گاڑی یا دیگر سہولیات فراہم نہ کی جائیں اور عوام کو بھی سوچنا چاہیے کہ وہ کن لوگوں کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے بیان کو مہاتما گاندھی کی تعلیمات سے جوڑتے ہوئے کہا کہ عدم تعاون اور سول نافرمانی کے ذریعہ یہ مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔
اگرچہ ہیمنتا بسوا سرما یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ ’’میاں‘‘ سے ان کی مراد صرف بنگلہ دیش سے آئے مبینہ غیر قانونی تارکین وطن ہیں اور مسلمان اس سے الگ ہیں، تاہم ناقدین کا الزام ہے کہ ان بیانات کے ذریعہ مغربی بنگال اور آسام کے بنگالی نژاد مسلمانوں کو اجتماعی طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ کے ان بیانات کے خلاف اب قانونی اور سماجی سطح پر بھی آواز بلند ہونے لگی ہے۔ 43 ممتاز شہریوں کے ایک گروپ نے گوہاٹی ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کو ایک میمورنڈم پیش کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کی بار بار کی نفرت انگیز تقریروں اور آئینی بدتمیزی کے معاملات پر از خود نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔
اس گروپ میں معروف دانشور پروفیسر ہیرن گوہین، سابق ڈی جی پی ہری کرشنا ڈیکا، سابق آرچ بشپ تھامس مینمپرامپل، رکن پارلیمنٹ اجیت کمار بھویان اور ماحولیاتی سائنسداں دلال چندر گوسوامی شامل ہیں۔ میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ کے بیانات نہ صرف سیاسی شائستگی کے خلاف ہیں بلکہ یہ بنگالی نژاد مسلم برادری کی اجتماعی تذلیل اور ریاستی سرپرستی میں امتیازی سلوک کا خطرہ بھی پیدا کر رہے ہیں، جو آئین ہند کے آرٹیکل 21، یعنی زندگی اور عزت کے حق، کی صریح خلاف ورزی ہے۔ وہیں ملک بھر کے مسلمانوں کی جانب سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ سپریم کورٹ اس معاملہ میں ازخود نوٹس لے اور سخت کاروائی کریں۔


