(فوٹو بشکریہ ’دی ہندوستان گزٹ)
حیدرآباد (دکن فائلز) اتر پردیش کے ضلع پریاگ راج کے سروادِہ گاؤں میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک جوڑے کے مختلف برادریوں سے تعلق رکھنے کے باعث مبینہ طور پر مسلم خاندانوں کو اجتماعی سزا دی گئی۔
دی ہندوستان گزٹ کی رپورٹ کے مطابق 29 جنوری کو فل پور تھانہ علاقے میں ایک مشتعل ہجوم نے تین مسلم خاندانوں کے گھروں پر حملہ کیا، لوٹ مار کی، آگ لگائی اور مکانات کو باہر سے تالا لگا دیا۔
متاثرہ خاندانوں کے مطابق یہ تشدد اس وقت بھڑکا جب بِندو برادری سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون ایک مسلم نوجوان کے ساتھ فرار ہو گئی۔ حالانکہ متاثرہ خاندانوں کا اس جوڑے سے کوئی تعلق نہیں تھا، اس کے باوجود انہیں نشانہ بنایا گیا۔
متاثرین میں دو بیوہ خواتین شفیقہ بیگم اور حسینہ بیگم بھی شامل ہیں۔ ایک متاثرہ خاتون رضوانہ بیگم کی جانب سے فلپور تھانے میں دی گئی تحریری شکایت کے مطابق، تقریباً رات 8 بجے مردوں اور عورتوں پر مشتمل ہجوم لاٹھیاں اور ڈنڈے لے کر آیا، گھروں کے دروازے توڑے، کھڑکیاں توڑیں، سامان لوٹا، سونا چاندی چُرا لیا اور گھریلو اشیاء کو آگ لگا دی۔
شکایت میں کہا گیا ہے کہ ہجوم نے گھروں کو باہر سے تالا لگا دیا اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دے کر فرار ہو گیا، جس کے بعد خوفزدہ خاندان گھر چھوڑ کر رشتہ داروں کے یہاں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔ متاثرین کا الزام ہے کہ جب وہ 30 جنوری کو پولیس اسٹیشن گئے تو ان کی شکایت درج نہیں کی گئی۔ ایک متاثرہ خاتون نے کہا “ہم کئی بار تھانے گئے، مگر کوئی سننے کو تیار نہیں۔ پولیس کمشنر کو بھی شکایت دی، مگر انصاف نہیں ملا۔”
شکایت میں کئی نامزد ملزمان کے علاوہ 10 سے 15 نامعلوم افراد کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ متاثرین کے مطابق ان کے پاس واقعہ کی ویڈیو فوٹیج بھی موجود ہے۔
سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ محض ایک مقامی تنازعہ نہیں بلکہ اقلیتوں کے خلاف اجتماعی تشدد اور پولیس کی بے حسی کی سنگین مثال ہے۔ مقامی لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ایف آئی آر درج کی جائے، متاثرین کو تحفظ فراہم کیا جائے اور مجرموں کے خلاف سخت کارروائی ہو۔


