حیدرآباد (دکن فائلز کی خصوصی رپورٹ) تلنگانہ میں مسلم ریزرویشن کے معاملہ پر بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے ایک بار پھر اشتعال انگیز ردِعمل سامنے آیا ہے، مگر یہی بی جے پی جب آندھراپردیش کی بات آتی ہے تو خاموش تماشائی بن جاتی ہے۔ یہ تضاد اس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ بی جے پی کا اعتراض آئین یا اصولوں سے زیادہ سیاسی مفادات اور انتخابی حکمتِ عملی سے جڑا ہوا ہے۔
تلنگانہ بی جے پی کے صدر رام چندر راؤ نے وزیراعلیٰ ریونت ریڈی کے مسلم ریزرویشن سے متعلق بیانات پر تنقید کرتے ہوئے انہیں محمد علی جناح کے 1929 کے ’14 نکات‘ سے جوڑ دیا اور الزام عائد کیا کہ کانگریس آئین کے خلاف جا رہی ہے۔ ان بیانات کو بی جے پی کے مرکزی رہنماؤں، بشمول مرکزی وزیر جی کشن ریڈی، نے بھی آگے بڑھاتے ہوئے اسے ’’ووٹ بینک کی سیاست‘‘ اور ’’آئینی کے خلاف‘‘ قرار دیا۔
یہاں سب سے اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر مسلم ریزرویشن واقعی غیر آئینی اور قابلِ اعتراض ہے تو بی جے پی آندھراپردیش میں خاموش کیوں ہے؟
آندھراپردیش میں اس وقت چندرابابو نائیڈو کی قیادت میں تلگودیشم پارٹی کی حکومت ہے، جسے بی جے پی کی مکمل تائید حاصل ہے۔ نہ صرف ریاست میں، بلکہ مرکز میں نریندر مودی حکومت بھی تلگودیشم کی حمایت کے سہارے قائم ہے۔ اگر تلگودیشم اپنی حمایت واپس لے لے تو مرکز کی مودی حکومت کا وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
اسی سیاسی مجبوری کے تحت بی جے پی آندھراپردیش میں مسلم ریزرویشن کے معاملہ پر نہ کوئی بیان دیتی ہے، نہ کوئی احتجاج، نہ آئین یاد آتا ہے۔
آندھراپردیش کے وزیراعلیٰ چندرابابو نائیڈو خود کو سیکولر اور مسلمانوں کا ہمدرد ثابت کرنے کے لیے واضح طور پر اعلان کر چکے ہیں کہ ریاست میں مسلمانوں کے لیے 4 فیصد ریزرویشن برقرار رہے گا۔ یہی نہیں، ریاست کی تقسیم کے بعد تلنگانہ میں پہلے بی آر ایس اور پھر کانگریس نے، آندھراپردیش میں وائی ایس آر کانگریس اور تلگودیشم، سبھی حکومتوں نے اس ریزرویشن کو جاری رکھا، مگر بی جے پی کو مسئلہ صرف تلنگانہ میں نظر آتا ہے۔
یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ متحدہ آندھراپردیش میں مسلمانوں کو 4 فیصد ریزرویشن سب سے پہلے وائی ایس راج شیکھر ریڈی کی کانگریس حکومت نے دیا تھا۔ بعد میں عدالتوں میں اس پر قانونی بحث ضرور ہوئی، مگر مختلف حکومتوں نے اسے سماجی و تعلیمی پسماندگی کی بنیاد پر جاری رکھا، نہ کہ مذہب کی بنیاد پر۔
تلنگانہ میں جیسے ہی انتخابات قریب آتے ہیں، بی جے پی کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات کا سلسلہ تیز ہو جاتا ہے۔ کبھی مسلم ریزرویشن کو نشانہ بنایا جاتا ہے، کبھی فلاحی اسکیموں کو، اور کبھی آئین کا نام لے کر خوف اور نفرت کا ماحول پیدا کیا جاتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، آنے والے تلنگانہ میونسپل انتخابات میں بی جے پی کا واحد مقصد کسی بھی طرح اقتدار حاصل کرنا ہے، اور اس کے لیے ہندو ووٹوں کو لبھانے کی خاطر مسلمانوں کو نشانہ بنانا ایک آزمودہ ہتھکنڈہ ہے۔
اگر بی جے پی واقعی ڈاکٹر امبیڈکر کے آئین اور سماجی انصاف کی اتنی ہی محافظ ہوتی، تو آندھراپردیش میں بھی اسی شدّت سے آواز اٹھاتی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جہاں اقتدار کا حساب بدلتا ہے، وہاں اصول بھی بدل جاتے ہیں۔ تلنگانہ میں چیخ و پکار اور آندھراپردیش میں خاموشی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ اصولوں کی لڑائی نہیں، بلکہ اقتدار کی سیاست ہے۔


