حیدرآباد (دکن فائلز) مغربی بنگال کے ضلع مالدہ میں جمعہ کے روز ایک ایسا افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جس نے انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ سڑک حادثے میں ایک اسکول ٹیچر کی بیوی اور نو ماہ کے معصوم بیٹے کی موت ہوگئی، جبکہ غم سے نڈھال شوہر کو مجبوری کے عالم میں دونوں کی لاشیں میڈیکل کالج کے مردہ خانہ میں چھوڑ کر ایس آئی آر سماعت کے مرکز جانا پڑا۔
متوفی خاندان کا کہنا ہے کہ اگر انہیں ایس آئی آر سماعت کے لیے طلب نہ کیا جاتا تو شاید یہ سانحہ پیش نہ آتا۔ مہلوک خاتون کے شوہر محمد یاسین انصاری، مالدہ کے گزول تھانہ علاقہ کے کھرداہل گاؤں کے رہتے ہیں۔ وہ کالیچک کے سوجاپور نیموزا ہائی مدرسہ میں استاد کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ تدریسی ذمہ داریوں کے باعث وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سوجاپور میں مقیم تھے۔
اہلِ خانہ کے مطابق یاسین انصاری اور ان کی اہلیہ حلیمہ خاتون کو جمعہ کے روز سماعت کے لیے بلایا گیا تھا کیونکہ سرکاری ریکارڈ میں ان کے نام غلط درج ہوگئے تھے۔ اسی سلسلے میں جمعرات کی رات وہ اپنی اہلیہ اور نو ماہ کے بیٹے عارف حسن کے ساتھ بس پکڑنے کے لیے ٹوٹو پر امبازار جا رہے تھے۔ راستے میں سوستانی علاقہ کے قریب ٹوٹو بے قابو ہو کر الٹ گیا۔ حادثہ اتنا شدید تھا کہ حلیمہ خاتون موقع پر ہی جاں بحق ہوگئیں، جبکہ شدید زخمی عارف حسن کو اسپتال لے جایا گیا، جہاں اس نے بھی دم توڑ دیا۔
غم کی اس گھڑی میں بھی یاسین انصاری کو ایس آئی آر سماعت میں حاضر ہونا پڑا۔ وہ اپنی بیوی اور معصوم بچے کی لاشیں مالدہ میڈیکل کالج اسپتال کے پوسٹ مارٹم ڈیپارٹمنٹ میں چھوڑ کر سماعت مرکز پہنچے۔ مقتولہ کے بھائی عبدالرحمن انصاری نے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا، “میری بہن اور بہنوائی ایس آئی آر نوٹس کے سلسلے میں سماعت کےلئے جا رہے تھے کہ یہ حادثہ پیش آ گیا۔ اگر سماعت کے لیے بلایا نہ جاتا تو شاید یہ جانیں بچ جاتیں۔ اب ہم سماعت مرکز میں لاشوں کا انتظار کر رہے ہیں۔”
مقامی لوگوں نے بھی اس واقعہ کو نہایت افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک استاد کو قانون اور نظام کی مجبوری کے تحت اپنے جگر گوشوں کی لاشیں چھوڑ کر سماعت کے لیے جانا پڑا، جو پورے نظام پر ایک سوالیہ نشان ہے۔


