وزیر محمد اظہرالدین نے سالگرہ کا آغاز والدہ کی دعا سے کیا

حیدرآباد (دکن فائلز) ماں، جو محبت، دعا، قربانی اور رہنمائی کا وہ سرچشمہ ہے جس کی کوئی مثال نہیں۔ انسان دنیا کی جس بھی بلندی کو چھو لے، ماں کی دعا کے بغیر وہ بلندی ادھوری رہتی ہے۔ اسی حقیقت کی خوبصورت اور عملی تصویر اس وقت سامنے آئی جب تلنگانہ میں اقلیتی بہبود کے وزیر محمد اظہرالدین نے اپنے یومِ پیدائش کا آغاز اپنی والدہ سے دعا لے کر کیا۔

وزیر محمد اظہرالدین نے اس موقع پر نہ کوئی نمود و نمائش کی، نہ ہی پروٹوکول کی دیواریں کھڑی کیں، بلکہ سادگی، تہذیب اور حیدرآبادی اقدار کو ترجیح دیتے ہوئے اپنی ماں کے قدموں میں بیٹھ کر دعا حاصل کی۔ یہ منظر نہ صرف جذبات کو چھو لینے والا تھا بلکہ اس بات کی گواہی بھی تھا کہ اصل قیادت وہی ہوتی ہے جو اقتدار میں رہتے ہوئے بھی اپنی جڑوں، رشتوں اور اقدار کو نہ بھولے۔

انہوں نے اپنی والدہ کی محبت اور رہنمائی کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی طاقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسان کتنا ہی بڑا عہدہ یا مقام حاصل کر لے، ماں کی دعا سے بڑھ کر کوئی دولت نہیں۔ ان کے مطابق ماں کی دعا وہ حصار ہے جو انسان کو ہر مشکل میں سنبھالے رکھتا ہے اور صحیح راستے پر قائم رہنے کی تلقین کرتا ہے۔

محمد اظہرالدین کا یہ انداز عوام کے دلوں کو چھو گیا۔ ایک طرف وہ ایک ذمہ دار، سنجیدہ اور عوامی خدمت کو اولین ترجیح دینے والے وزیر کے طور پر نظر آئے، تو دوسری جانب ایک فرماں بردار بیٹے کی صورت میں سامنے آئے جو اپنی ماں کی عظمت کو سب سے بلند مقام دیتا ہے۔

یومِ پیدائش کے موقع پر موصول ہونے والی مبارکبادوں، دعاؤں اور خلوص پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ عوام کی محبت اور دعائیں ہی ان کے لیے اصل سرمایہ ہیں اور یہی انہیں مزید محنت، دیانت اور خلوص کے ساتھ عوامی خدمت پر آمادہ کرتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں