حیدرآباد (دکن فائلز) آسام بی جے پی یونٹ کے آفیشل ایکس ہینڈل سے ہفتہ کے روز ایک ویڈیو شیئر کیے جانے کے بعد شدید تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ ویڈیو میں آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنتا بسوا سرما کو علامتی طور پر بندوق چلاتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جب کہ نشانے پر مسلمانوں، بالخصوص بنگالی نژاد مسلمانوں کو دکھانے والی اے آئی سے تیار کردہ تصاویر شامل کی گئی ہیں۔ ویڈیو کے مندرجات اور اس کے پیغام کو مسلم مخالف اور کھلے عام نفرت انگیز قرار دیا جا رہا ہے۔
ویڈیو میں ایسے اشتعال انگیز جملے درج ہیں جیسے:
“Foreigner Free Assam”، “No Mercy”، “Why did you not go to Pakistan?” اور “There is no forgiveness to Bangladeshis”۔
ان نعروں کو آسام میں پہلے سے موجود مسلم مخالف بیانیے کو مزید بھڑکانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اس ویڈیو کو مختلف سیاسی جماعتوں، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمان ساگریکا گھوش نے کہا: “شرمناک۔ جس نے بھی یہ اشتہار بنایا ہے، اسے فوری طور پر گرفتار کیا جانا چاہیے۔”
سینئر صحافی رانا ایوب نے سوشل میڈیا پر لکھا: “اسے شیئر کرنا نفرت کو بڑھاوا دینے جیسا ہے، مگر یہ اقتدار کے اعلیٰ ایوانوں میں موجود اخلاقی پستی کو بے نقاب کرتا ہے۔ بی جے پی کا آفیشل ٹوئٹر ہینڈل وزیراعلیٰ ہیمنتا بسوا سرما کی مسلمانوں پر گولی چلانے والی میم شیئر کرتا ہے، جبکہ وزیر اعظم مودی مسلم اکثریتی ملک ملائیشیا میں شاندار استقبال کی بات کرتے ہیں۔”
صحافی ایم ریاض نے بھی سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا: “ملک اور آسام کی حکمراں جماعت کو ’مِیا‘ مسلمانوں کے قتل کی علامتی ویڈیوز بنانے اور شیئر کرنے میں کوئی جھجک نہیں۔”
یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیراعلیٰ ہیمنتا بسوا سرما پہلے ہی اپنے بیانات کے باعث شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں انہوں نے کئی تقاریب کے دوران ایسے ریمارکس دیے جنہیں اپوزیشن جماعتوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور مسلم رہنماؤں نے “نفرت انگیز اور تقسیم کرنے والا” قرار دیا ہے۔ ڈگبوئی میں ایک تقریب کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ اسپیشل انٹینسو ریویژن کے عمل کے دوران وہ “مِیاں لوگوں کو تکلیف پہنچائیں گے” اور عوام سے انہیں “پریشان کرنے” کی اپیل بھی کی تھی۔ یہاں تک کہ انہوں نے یہ متنازع مثال دی کہ اگر آٹو رکشہ کا کرایہ پانچ روپے ہو تو “مِیا ڈرائیور” کو چار روپے دیے جائیں۔
آسام میں مسلمان، خصوصاً بنگالی نژاد مسلمان، سماجی اور معاشی طور پر سب سے زیادہ پسماندہ طبقات میں شمار ہوتے ہیں اور اکثر انہیں “باہر سے آئے ہوئے” یا “غیر قانونی تارکین وطن” کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ یہ تمام ہندوستانی شہری ہیں۔
معروف انسانی حقوق کارکن ہرش مندر نے وزیراعلیٰ کے خلاف پولیس میں شکایت درج کراتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ ان کے بیانات نہ صرف نفرت انگیز ہیں بلکہ ریاست میں آئینی اقدار اور اقلیتی حقوق کے لیے سنگین خطرہ بھی ہیں۔ دوسری جانب جمعیۃ علمائے ہند نے بھی سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے اور وزیراعلیٰ کے بیانات کو کھلے عام فرقہ وارانہ، غیر آئینی اور ایک اعلیٰ آئینی عہدے پر فائز شخص کی جانب سے نفرت انگیز تقریر قرار دیا ہے۔
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اور رکن پارلیمان اسدالدین اویسی نے وزیراعلیٰ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا: “آسام کے وزیراعلیٰ بی جے پی سے تعلق رکھتے ہیں۔ کیا کوئی وزیراعلیٰ یہ کہہ سکتا ہے کہ اگر آٹو رکشہ میں ’مِیاں‘ ڈرائیور ہو اور کرایہ پانچ روپے ہو تو چار روپے دیے جائیں؟ ’مِیاں‘ وہ مسلمان ہیں جنہیں انگریز 150 سے 200 سال پہلے آسام لائے تھے۔ وہ ہندوستانی شہری ہیں، بنگالی زبان بولتے ہیں۔ وزیراعلیٰ کی سوچ کتنی پست ہے؟”
ویڈیو اور وزیراعلیٰ کے بیانات نے ایک بار پھر آسام میں فرقہ وارانہ سیاست، نفرت انگیز تقاریر اور اقلیتوں کے تحفظ کے سوال کو مرکزِ بحث بنا دیا ہے، جب کہ اپوزیشن اور سماجی تنظیمیں ذمہ داروں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ وہیں اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد ملک بھر کے مسلمانوں نے بی جے پی کی حرکت پر سخت احتجاج کیا ہے۔


