مہاراشٹرا میں تبلیغی جماعت کے ارکان پر شدت پسند درندوں نے حملہ کردیا، داڑھی اور ٹوپی دیکھ کر تشدد کا نشانہ بنانے کا الزام، تین نوجوان شدید زخمی (ویڈیو دیکھیں)

حیدرآباد (دکن فائلز) مہاراشٹر کے شہر دھولیہ کے قریب اروی گاؤں میں تبلیغی جماعت کے تین ارکان پر پیر کی شب نامعلوم شرپسند درندوں نے حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق زخمیوں کو ابتدائی طور پر سرکاری اسپتال میں داخل کرایا گیا، بعد ازاں حالات کے پیش نظر انہیں نجی اسپتال منتقل کیا گیا۔

سابق کارپوریٹر امین پٹیل کے مطابق مسجد اسحاق دھولیہ کی جماعت کے تین نوجوان مالیگاؤں سے آٹو رکشہ کے ذریعہ واپس لوٹ رہے تھے جبکہ دو ساتھی موٹر سائیکل پر ان کے پیچھے آ رہے تھے۔ رات تقریباً 12 بجے جب یہ لوگ اروی گاؤں کے قریب پہنچے تو 30 سے 40 افراد پر مشتمل ایک ہجوم جھاڑیوں سے نکل کر ان پر حملہ آور ہو گیا۔ زخمیوں کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کے ہاتھوں میں ہتھیار تھے اور انہوں نے داڑھی اور ٹوپی دیکھ کر بلاوجہ تشدد کیا۔

حملے میں شعیب انصاری کے سر پر گہرا زخم آیا، سلیم انصاری کا ہاتھ فریکچر ہو گیا جبکہ سلمان انصاری کے چہرے پر شدید چوٹیں آئیں۔ زخمیوں کے مطابق انہوں نے حملہ آوروں کو بتایا کہ وہ مذہبی کام سے واپس آ رہے ہیں، لیکن ہجوم نے ان کی ایک نہ سنی اور مارپیٹ جاری رکھی۔

واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی اور فوری کارروائی کرتے ہوئے اروی گاؤں سے کشور مہالے، چیتن پوار، انیکیت بارسے، وشال باگلے، دیپک کالے، ساحل گولی، پون دھائیگڑے، نریندر کولی اور چیتن سوناونے کو حراست میں لے لیا۔ مجلس اتحاد المسلمین کے مقامی کارپوریٹروں نے تعلقہ پولیس اسٹیشن پہنچ کر فوری گرفتاریوں کا مطالبہ کیا اور بعد ازاں ضلع سپرنٹنڈنٹ آف پولیس شری کانت دھیورے سے ملاقات کر کے دیگر ملزمان کی گرفتاری اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ایس پی نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ قصورواروں کو سخت سزا دلائی جائے گی۔

مقامی ذرائع کے مطابق اروی، للینگ گھاٹ اور اودھان گاؤں کے اطراف رات کے وقت مسافروں پر حملوں اور لوٹ مار کے واقعات ماضی میں بھی پیش آتے رہے ہیں۔ پولیس نے علاقے میں گشت بڑھانے اور مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں