حیدرآباد (دکن فائلز) “اب مجھے امید ہے کہ لوگ مجھے ملک دشمن کہنا بند کر دیں گے۔” یہ الفاظ اتر پردیش کے 78 سالہ محمد نعیم کے ہیں، جنہیں 33 برس تک ایک ایسے مقدمے کا سامنا کرنا پڑا جس کے بارے میں خصوصی این آئی اے عدالت نے آخرکار قرار دیا کہ استغاثہ ان کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔ اس فیصلے نے نہ صرف ایک طویل قانونی لڑائی کا اختتام کیا بلکہ تفتیشی نظام، استغاثہ کی کارکردگی اور انصاف کی غیر معمولی تاخیر پر بھی کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
لکھنؤ کی خصوصی قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) عدالت نے 31 جولائی کو سنائے گئے اپنے فیصلے میں گورکھپور کے رہائشی محمد نعیم کو تعزیراتِ ہند کی دفعات 124-A (بغاوت)، 295-A (مذہبی جذبات مجروح کرنا) اور 153-B (قومی یکجہتی کے خلاف بیانات) کے تحت قائم تمام الزامات سے بری کر دیا۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج اور خصوصی جج (این آئی اے) اوماکانت جندل نے واضح طور پر کہا کہ استغاثہ ملزم کے خلاف ایسا کوئی قابل اعتماد ثبوت پیش نہیں کر سکا جس کی بنیاد پر جرم ثابت کیا جا سکے۔
یہ مقدمہ 26 جنوری 1993 کے ایک مبینہ واقعے سے متعلق تھا۔ پولیس کے مطابق اسماعیل پور میں چند افراد نے سیاہ جھنڈے لہراتے ہوئے “پاکستان زندہ باد” اور “ریپبلک ڈے مردہ باد” جیسے نعرے لگائے تھے۔ ایف آئی آر میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ بابری مسجد کی شہادت کا حوالہ دیتے ہوئے اشتعال انگیز تقاریر کی گئیں اور فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے کی کوشش کی گئی۔ پولیس کا کہنا تھا کہ اہلکاروں کو دیکھتے ہی تمام افراد موقع سے فرار ہو گئے، بعد میں محمد نعیم سمیت کئی افراد کو اس مقدمے میں نامزد کر دیا گیا۔
تاہم تین دہائیوں بعد عدالت نے جب پورے ریکارڈ کا جائزہ لیا تو استغاثہ کے مقدمے میں ایک کے بعد ایک ایسی خامیاں سامنے آئیں جنہوں نے پوری تفتیش پر سوالیہ نشان لگا دیا۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ مبینہ طور پر برآمد کیے گئے چار سیاہ جھنڈے کبھی عدالت میں پیش ہی نہیں کیے گئے۔ ان کی برآمدگی کے لیے کوئی قانونی ضبطی میمو بھی موجود نہیں تھا۔ استغاثہ کا اہم گواہ جرح کے دوران یہ تسلیم کر گیا کہ پولیس کے پہنچنے سے پہلے ہی تمام مبینہ افراد فرار ہو چکے تھے۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ شکایت درج کرانے والے انسپکٹر پون کمار سنگھ کا صرف ابتدائی بیان ریکارڈ کیا گیا، مگر وہ بار بار مواقع دیے جانے کے باوجود جرح کے لیے عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ دوسرے تفتیشی افسر نے بھی اعتراف کیا کہ انہوں نے نہ جائے وقوعہ کا معائنہ کیا، نہ نئے گواہوں کے بیانات لیے اور نہ ہی کوئی نیا ثبوت اکٹھا کیا، بلکہ پہلے سے موجود ریکارڈ کی بنیاد پر ہی چارج شیٹ داخل کر دی۔
عدالت نے ایک بنیادی سوال بھی اٹھایا کہ جب پولیس کے مطابق تمام افراد موقع سے فرار ہو گئے تھے تو محمد نعیم اور دیگر ملزمان کی شناخت آخر کس بنیاد پر کی گئی؟ فیصلے میں واضح کیا گیا کہ محمد نعیم کو واقعے سے جوڑنے کے لیے کوئی آزاد، غیر جانبدار یا قابل اعتماد گواہ بھی موجود نہیں تھا۔
محمد نعیم کے وکیل راہول سونکر کے مطابق پہلے تفتیشی افسر نے 2003 میں ناکافی شواہد کی بنیاد پر فائنل رپورٹ داخل کی تھی، لیکن بعد میں اسے مسترد کر دیا گیا۔ اس کے بعد 2005 میں کسی نئے ثبوت کے بغیر دوبارہ چارج شیٹ پیش کر دی گئی۔ مقدمے کی طوالت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ شریک ملزمان محمد یوسف اور عطا اللہ دورانِ سماعت انتقال کر گئے، جبکہ محمد نعیم تنہا اس مقدمے کا سامنا کرتے رہے۔
فیصلہ سنائے جانے کے بعد محمد نعیم جذباتی ہو گئے۔ انہوں نے کہا، “33 برس تک میں سب کو یہی کہتا رہا کہ میں بے قصور ہوں اور مجھے جھوٹے مقدمے میں پھنسایا گیا ہے۔ آج مجھے انصاف مل گیا۔ اب مجھے امید ہے کہ لوگ مجھے ملک دشمن کہنا بند کر دیں گے۔”
یہ مقدمہ ایک بار پھر اس سوال کو نمایاں کرتا ہے کہ اگر کسی شخص کو تین دہائیوں بعد بے قصور قرار دیا جائے تو کیا صرف بریت ہی کافی انصاف ہے؟ قانونی ماہرین طویل عرصے سے کہتے آئے ہیں کہ “تاخیر سے ملنے والا انصاف بھی کئی مرتبہ ناانصافی بن جاتا ہے۔” ایک ایسے شخص کی زندگی کے 33 برس عدالتوں کے چکر، سماجی بدنامی، ذہنی دباؤ، مالی بوجھ اور مسلسل غیر یقینی کیفیت میں گزر جائیں تو بعد میں سنایا جانے والا بریت کا فیصلہ اگرچہ قانونی اعتبار سے اہم ہوتا ہے، مگر وہ کھوئے ہوئے برس، متاثرہ عزت، معاشی نقصان اور نفسیاتی تکلیف واپس نہیں لا سکتا۔
اس فیصلے کے بعد تفتیشی ایجنسیوں اور استغاثہ کی ذمہ داریوں پر بھی نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ اگر کسی مقدمے میں بنیادی شواہد ہی عدالت میں پیش نہ کیے جائیں، گواہ اپنی بات ثابت نہ کر سکیں اور تفتیش مطلوبہ معیار پر پوری نہ اترے تو ایسے مقدمات برسوں تک زیرِ التوا رہنے سے نہ صرف عدالتی نظام پر عوام کا اعتماد متاثر ہوتا ہے بلکہ بے قصور افراد کی زندگی بھی شدید متاثر ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے معاملات میں مؤثر تفتیش، بروقت سماعت اور ذمہ داری کے تعین کا مضبوط نظام ہی انصاف کے تقاضوں کو پورا کر سکتا ہے۔
خصوصی این آئی اے عدالت نے محمد نعیم کو تمام الزامات سے بری کرتے ہوئے ان کے ضمانتی مچلکے منسوخ کر دیے، تاہم ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 437-A کے تحت انہیں آئندہ چھ ماہ تک قانونی ضمانتی بانڈ برقرار رکھنے کی ہدایت دی ہے۔ اگرچہ قانونی کارروائی اختتام کو پہنچ گئی، لیکن یہ مقدمہ انصاف کی رفتار، تفتیشی معیار اور شہری حقوق کے حوالے سے ایک اہم مثال بن کر سامنے آیا ہے۔


