مسلم نوجوان کو گائے کا گوبر کھانے پر مجبور کرنے والے ہندوتوا جنگلی درندے گرفتار، پونے میں انسانیت سوز واقعہ، مسلمانوں میں شدید غم و غصہ کی لہر (ویڈیو دیکھیں)

حیدرآباد (دکن فائلز) مہاراشٹر کے شہر پونے میں انسانیت کو شرمسار کرنے والا ایک انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت واقعہ پیش آیا ہے، جہاں شدت پسند ہندوتوا گروہوں سے وابستہ افراد نے ایک مسلمان نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد اسے زبردستی گائے کا گوبر کھانے پر مجبور کیا۔ واقعہ کی ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد پورے ملک میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی اور انسانی حقوق کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب متاثرہ نوجوان بھینسوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر رہا تھا۔ اسی دوران مبینہ طور پر ہندوتوا تنظیم بجرنگ دل سے وابستہ افراد نے اس کی گاڑی کو روک لیا اور اس پر حملہ کر دیا۔ تشدد کے بعد اسے زبردستی گائے کا گوبر کھانے پر مجبور کیا گیا۔ وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حملہ آور نوجوان کے منہ میں زبردستی گوبر ڈال رہے ہیں۔ جب وہ قے کرتا ہے تو اسے مزید مارا پیٹا جاتا ہے اور مذہبی بنیادوں پر گالیاں بھی دی جاتی ہیں۔

اس شرمناک واقعہ کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے تین ملزمان ہجڑے بی پاشا، ہیمنت گائیکواڑ اور وجے سولےکو گرفتار کر لیا ہے۔ ان کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے اور انہیں عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ تاہم سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ پولیس کی کارروائی اس وقت شروع ہوئی جب سیاسی اور سماجی تنظیموں نے سخت دباؤ ڈالا۔

پونے میں ایس ڈی پی آئی کے صدر عارف سید کے مطابق پارٹی کے وفد نے اتوار کو پولیس حکام سے ملاقات کر کے واقعہ کی فوری تحقیقات اور ملزمان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا، جس کے بعد ایف آئی آر درج کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ نوجوان ممبئی کا رہائشی ہے اور اس دل دہلا دینے والے واقعہ کے بعد خوف کے باعث پونے واپس نہیں آیا۔

عارف سید نے پولیس پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر ابتدا ہی میں مؤثر کارروائی کی جاتی تو صورتحال یہاں تک نہ پہنچتی۔ ان کے مطابق بعض شدت پسند گروہ اکثر اسی طرح کے واقعات میں ملوث رہتے ہیں، کبھی لوگوں کے گھروں میں گھس کر دھمکیاں دینا، کبھی دکانیں زبردستی بند کروانا اور کبھی تشدد کے ذریعہ خوف کا ماحول پیدا کرنا۔

ایس ڈی پی آئی کے مہاراشٹر صدر اظہر تمبولی نے اس واقعہ کو انسانیت کے ماتھے پر بدنما داغ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف کسی مذہب یا برادری کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر کا امتحان ہے۔ ان کے مطابق کسی انسان کو اس کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر اس طرح ذلیل کرنا اور اس کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرنا ایک خطرناک ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جس کی سخت ترین الفاظ میں مذمت ہونی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی بھی شہری کے ساتھ اس نوعیت کا ظلم ہوتا ہے تو اسے انصاف دلانے کے لیے قانونی مدد فراہم کی جائے گی اور متاثرین کے ساتھ کھڑے رہا جائے گا۔

یہ واقعہ نہ صرف قانون کی حکمرانی پر سوال اٹھاتا ہے بلکہ معاشرے کے اس خطرناک رجحان کی بھی نشاندہی کرتا ہے جس میں ہجوم خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگتا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں اور سماجی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں کسی کو بھی اس طرح کی نفرت اور تشدد پھیلانے کی جرات نہ ہو۔

انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ مذہب، ذات یا شناخت سے بالاتر ہو کر ہر شہری کے وقار اور بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ کیونکہ جب کسی ایک انسان کی تذلیل ہوتی ہے تو دراصل پوری انسانیت کی توہین ہوتی ہے۔

ویڈیو دیکھنے کےلئے لنک پر کلک کریں:
https://www.instagram.com/reels/DVqJFiij6GE/

https://www.facebook.com/reel/26247455568221854

اپنا تبصرہ بھیجیں