حیدرآباد (دکن فائلز) پاکستان سے تعلق رکھنے والی کم عمر مگر غیر معمولی صلاحیتوں کی حامل حافظہ و ڈاکٹر عمارہ افشین نے اپنی محنت، لگن اور عشقِ قرآن کے ذریعے ایک ایسا کارنامہ انجام دیا ہے جس نے انہیں عالمی سطح پر نمایاں مقام دلا دیا ہے۔
ڈاکٹر عمارہ افشین نے قرآنِ پاک کو نہایت منفرد انداز میں سونے (گولڈ) اور آبِ زم زم سے تحریر کیا، جو ایک غیر معمولی اور روحانیت سے بھرپور کارنامہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کی اس کاوش کو مذہبی، علمی اور فنّی حلقوں میں بے حد سراہا جا رہا ہے۔
انہوں نے اپنی کامیابی کے پس منظر میں ایک روحانی واقعہ بھی بیان کیا۔ ان کے مطابق تقریباً آٹھ سال قبل ان کی والدہ نے خواب میں دیکھا کہ عمارہ قرآن پاک لکھ رہی ہیں، تاہم کچھ عرصہ بعد وہ اس خواب کو بھول گئیں۔ بعد ازاں جب انہیں یہ خواب یاد آیا اور انہوں نے عمارہ کو بتایا تو اسی دن سے انہوں نے اس عظیم کام کا ارادہ کر لیا۔
ڈاکٹر عمارہ نے پڑوسی ملک پاکستان کے علاوہ مقدس مقامات پر جا کر بھی قرآن پاک کی کتابت کی۔ انہوں نے بیت اللہ، مسجد نبویﷺ اور دیگر مقدس مقامات جیسے مزدلفہ میں جا کر اس مقدس فریضے کو جاری رکھا، جسے وہ اپنی زندگی کی سب سے بڑی سعادت قرار دیتی ہیں۔
ان کی زندگی کا ایک یادگار لمحہ وہ تھا جب انہوں نے مسجد نبویﷺ میں قرآنِ پاک کا تحفہ پیش کیا، جسے انہوں نے اپنی روحانی کامیابی کا نقطۂ عروج قرار دیا۔
ڈاکٹر عمارہ افشین کی اس غیر معمولی کامیابی پر انہیں بین الاقوامی سطح پر کئی اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ سماجی و مذہبی حلقوں کا کہنا ہے کہ ان کی یہ کاوش نئی نسل کے لیے ایک روشن مثال ہے کہ خلوص، محنت اور عزم کے ذریعے انسان بڑے سے بڑا ہدف حاصل کر سکتا ہے۔


