مسلمان مرد کو بیک وقت چار شادیاں کرنے کی اجازت: دوسری شادی پر بگیمی کا مقدمہ خارج

حیدرآباد (دکن فائلز) مدھیہ پردیش ہائیکورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اگر کوئی مسلمان مرد پہلی بیوی کی موجودگی میں دوسری شادی کرتا ہے تو اس پر تعزیراتِ ہند کی دفعہ 494 (بگیمی) کے تحت مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔

جسٹس بی پی شرما کی سربراہی میں بینچ نے واضح کیا کہ دفعہ 494 کا اطلاق صرف ان صورتوں میں ہوتا ہے جہاں دوسری شادی پہلی شادی کے برقرار رہنے کی وجہ سے “باطل” ہو۔ عدالت نے کہا کہ چونکہ فریقین مسلم پرسنل لا کے تابع ہیں، جو ایک مرد کو ایک سے زائد شادیاں کرنے کی اجازت دیتا ہے، اس لیے دوسری شادی محض پہلی شادی کے جاری رہنے کی بنیاد پر باطل نہیں سمجھی جا سکتی۔

عدالت نے شوہر کی درخواست کو جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے بگیمی کا مقدمہ ختم کر دیا، تاہم یہ بھی واضح کیا کہ دیگر الزامات جن میں ظلم، غیر قانونی قید، مارپیٹ اور دھمکیاں (دفعات 498-A، 342، 323 اور 506 حصہ دوم) شامل ہیں پر ٹرائل جاری رہے گا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہاکہ “دفعہ 494 کی بنیادی شرط یہ ہے کہ دوسری شادی پہلی شادی کی موجودگی میں باطل ہو، جو اس کیس میں پوری نہیں ہوتی۔” یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب پہلی بیوی نے پولیس میں شکایت درج کرائی۔ اس کے مطابق 2002 میں شادی کے بعد شوہر نے اولاد نہ ہونے پر اسے ہراساں کیا اور 2022 میں دوسری شادی کر لی۔ خاتون نے یہ بھی الزام لگایا کہ اسے ’خلع‘ دینے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔

شوہر کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ مسلمان مرد کو پرسنل لا کے تحت بیک وقت چار شادیاں کرنے کی اجازت ہے، اس لیے دفعہ 494 لاگو نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس بیوی کے وکیل نے دلیل دی کہ شریعت ایکٹ 1937 کے تحت باقاعدہ اعلان کے بغیر یہ سہولت خود بخود لاگو نہیں ہوتی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ کے اہم مقدمات سرلا مدگل بنام یونین آف انڈیا (1995) اور خورشید احمد خان بنام ریاست اتر پردیش (2015) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسلم پرسنل لا میں تعدد ازدواج کی گنجائش موجود ہے۔ عدالت نے مزید کہا کہ اس کیس میں بگیمی کی کارروائی جاری رکھنا “عدالتی عمل کا غلط استعمال” ہوگا، تاہم دیگر سنگین الزامات پر ٹرائل قانون کے مطابق جاری رہے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں