جیفری ایپسٹین اور اسلامی مقدس مقامات سے منسوب نوادرات کی رپورٹ پر ہنگامہ، عالم اسلام میں شدید غم و غصہ

حیدرآباد (دکن فائلز) عالمی سطح پر ایک چونکا دینے والی رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بدنام زمانہ امریکی سرمایہ کار جیفری ایپسٹین کے نجی جزیرے پر قائم ایک نام نہاد مسجد میں اسلامی مقدس مقامات سے منسوب نوادرات رکھے گئے تھے۔

رپورٹس کے مطابق اس جزیرے پر ایک مسجد نما عمارت موجود تھی۔ وہاں ایسے کپڑے اور اشیاء رکھی گئی تھیں جنہیں خانہ کعبہ یا دیگر مقدس مقامات سے منسوب کیا گیا اور یہ انکشاف عالمی سطح پر شدید تشویش اور غم و غصے کا باعث بنا ہے۔

اس خبر کے منظر عام پر آنے کے بعد مسلم حلقوں میں سخت ردعمل دیکھنے کو ملا ہے۔ عالم اسلام کی جانب سے سوال اٹھائے جارہے ہیں کہ ایسی حساس مذہبی اشیاء ایک مجرم شخصیت تک کیسے پہنچیں۔ کئی حلقوں نے اس معاملے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ جیفری ایپسٹین پر کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال اور انسانی اسمگلنگ جیسے سنگین جرائم کے الزامات تھے۔ 2019 میں اس کی موت کے بعد بھی اس کے نیٹ ورک اور روابط پر تحقیقات جاری ہیں، اور یہ نئی رپورٹ اسی سلسلے کی ایک کڑی سمجھی جا رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں