گجرات مسلم کش فسادات 2002 کیس: ہائی کورٹ نے پانچ ملزمان کی بریت برقرار رکھی، شواہد ناکافی قرار

حیدرآباد (دکن فائلز) گجرات ہائی کورٹ نے 2002 کے مسلم کش فسادات سے متعلق ایک اہم مقدمے میں پانچ افراد کی بریت کو برقرار رکھتے ہوئے ریاست کی اپیل مسترد کر دی ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف الزامات کو معقول شک سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

یہ کیس وڈودرا کے علاقے کھوڈیا نگر میں پیش آنے والے اس واقعے سے متعلق تھا، جس میں الزام تھا کہ ایک ہجوم نے مسلم شہری شمش الدین عرف قاسم خان کے گھر اور دکان پر حملہ کیا، لوٹ مار کی اور آگ لگا دی۔ استغاثہ کے مطابق اسی دوران متاثرہ شخص کو تشدد کا نشانہ بنا کر آگ میں پھینک دیا گیا جس سے ان کی موت واقع ہوئی۔

ہائی کورٹ کے جسٹس نرزر ایس دیسائی اور جسٹس ڈی این رے پر مشتمل بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اہم گواہان ملزمان کی شناخت کرنے میں ناکام رہے۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ واقعے میں تقریباً 400 سے 500 افراد کا ہجوم شامل تھا، جس کے باعث کسی مخصوص فرد کی شناخت ممکن نہیں ہو سکی۔

عدالت نے مزید کہا کہ عینی شاہد، جو کہ متوفی کی اہلیہ تھیں، نے بھی ملزمان کے خلاف کسی واضح یا براہ راست کردار کی نشاندہی نہیں کی۔ اسی طرح طبی شواہد کو بھی کمزور قرار دیا گیا کیونکہ ڈاکٹر باقیات کو حتمی طور پر متوفی سے منسلک کرنے میں ناکام رہا۔

بینچ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ابتدائی شکایت کنندہ نے خود اعتراف کیا تھا کہ وہ فسادیوں کی شناخت سے واقف نہیں تھیں اور شکایت انہیں پڑھ کر سنائی گئی تھی جس پر انہوں نے دستخط کیے۔ ایک اور گواہ نے بتایا کہ واقعہ رات کے اندھیرے میں پیش آیا جس سے شناخت مزید مشکل ہو گئی۔

ریاستی حکومت نے 2003 کے سیشن کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا، جس میں ملزمان کو فسادات، آتشزدگی، قتل اور دیگر دفعات کے تحت بری کیا گیا تھا۔ تاہم ہائی کورٹ نے سیشن کورٹ کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے اپیل خارج کر دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں