حیدرآباد (دکن فائلز) مکہ مکرمہ میں موجود ہندوستانی عازمینِ حج کو اس سال شدید انتظامی مسائل، بدانتظامی اور ناقص سہولیات کا سامنا ہے، جس پر زائرین کی جانب سے شدید تشویش اور احتجاج سامنے آیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق عازمین نے شکایت کی ہے کہ انہوں نے حج کے لیے چار لاکھ روپے سے زائد رقم ادا کی، مگر اس کے باوجود انہیں انتہائی خراب حالات میں رکھا گیا۔ مکہ کے عزیزیہ علاقے میں واقع رہائش گاہوں میں ایک ایک کمرے میں 15 سے 16 افراد تک کو ٹھونس دیا گیا، جس کے باعث شدید بھیڑ اور مشکلات پیدا ہوئیں۔
عازمین کے مطابق نہ صرف کمروں میں گنجائش سے زیادہ افراد موجود ہیں بلکہ صفائی کے انتظامات بھی انتہائی ناقص ہیں۔ گندے فرش، بند واش روم، پانی جمع ہونے اور لفٹوں کے خراب ہونے جیسے مسائل نے خصوصاً بزرگ زائرین کو شدید پریشانی میں مبتلا کردیا ہے۔
کئی ویڈیوز اور سوشل میڈیا پوسٹس میں متاثرہ عازمین کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ “ہم نے اتنی بڑی رقم ادا کی، مگر ہمیں اس طرح کے حالات کا اندازہ نہیں تھا۔” بعض افراد نے حج کمیٹی پر الزام عائد کیا کہ وہ صرف پیسے لینے میں دلچسپی رکھتی ہے جبکہ سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔
ویڈیو دیکھنے کےلئے لنک پر کلک کریں:
https://x.com/i/status/2050160617982759085
دوسری جانب ہندوستانی سفارتخانے نے ان شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو صورتحال بہتر بنانے کی ہدایت دی ہے، جبکہ حج مشن نے اسے جزوی مسئلہ قرار دے کر فوری حل کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم عازمین کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو ان کی عبادات متاثر ہوسکتی ہیں۔


