فائلز) اتر پردیش کے ضلع بریلی میں ایک مسلم عالم دین کی ہلاکت نے ملک بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، جہاں اہلِ خانہ نے الزام لگایا ہے کہ انہیں ٹرین میں تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد باہر پھینک دیا گیا۔
29 سالہ مولانا توصیف رضا کی لاش 27 اپریل کو ریلوے ٹریک کے قریب ملی۔ اہلِ خانہ کے مطابق وہ ایک مذہبی اجتماع سے واپسی کے دوران ٹرین میں سفر کر رہے تھے کہ راستے میں ان پر حملہ کیا گیا۔
اہم بات یہ ہے کہ واقعے سے قبل انہوں نے اپنی اہلیہ کو متعدد مرتبہ فون کیا اور بتایا کہ کچھ لوگ انہیں مار رہے ہیں۔ ایک آڈیو ریکارڈنگ میں انہیں مدد کے لیے پکارتے ہوئے سنا جا سکتا ہے جبکہ ویڈیو کال کے دوران بھی ان پر تشدد کے مناظر دیکھے گئے۔
دی وائر کی رپورٹ کے مطابق پوسٹ مارٹم میں انکشاف ہوا کہ ان کے جسم پر متعدد شدید چوٹیں تھیں، سر پر گہرا زخم، ہاتھ اور ٹانگوں کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں جبکہ سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ ان کی تمام پسلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں، جو شدید تشدد کی نشاندہی کرتی ہیں۔
دوسری جانب پولیس کا ابتدائی مؤقف ہے کہ ممکنہ طور پر وہ ٹرین سے گر کر ہلاک ہوئے، تاہم اہلِ خانہ اور مختلف سیاسی و سماجی شخصیات نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ واقعہ نہ صرف ریلوے سکیورٹی بلکہ ملک میں بڑھتے ہوئے پرتشدد رجحانات پر بھی سنگین سوالات اٹھا رہا ہے، جبکہ متاثرہ خاندان انصاف کے منتظر ہیں۔


