حیدرآباد (دکن فائلز) ہندوستان کی عدالتِ عظمیٰ نے یو اے پی اے (غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام قانون) جیسے سخت قوانین کے تحت درج مقدمات میں ضمانت کے اصول پر ایک نہایت اہم اور تاریخی تبصرہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ’’بیل اصول ہے جبکہ جیل استثنیٰ‘‘، اور یہ آئینی اصول یو اے پی اے کے معاملات میں بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس این کوٹیشور سنگھ پر مشتمل بنچ نے ایک مبینہ ’’نارکو ٹیرر‘‘ معاملہ کی سماعت کے دوران کہا کہ اگر کسی ملزم کے خلاف مقدمہ برسوں تک زیرِ سماعت رہے اور ٹرائل مکمل نہ ہو سکے تو ایسے شخص کو غیر معینہ مدت تک جیل میں رکھنا آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت حاصل شخصی آزادی کے بنیادی حق کے خلاف ہوگا۔ عدالت نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ صرف سنگین الزامات عائد کر دینا کسی شہری کو طویل عرصہ تک قید رکھنے کا جواز نہیں بن سکتا۔
سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے اپنے بعض سابقہ فیصلوں، خصوصاً دہلی فسادات کیس میں طلبا لیڈر Umar Khalid کی ضمانت سے متعلق فیصلے پر بھی سوالات اٹھائے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ماضی میں بعض مواقع پر یو اے پی اے کی دفعات کی تشریح بہت زیادہ سخت انداز میں کی گئی، جس کی وجہ سے ضمانت کا بنیادی اصول متاثر ہوا۔ بنچ نے اس بات پر زور دیا کہ عدالتوں کو دہشت گردی مخالف قوانین کے اطلاق کے ساتھ ساتھ بنیادی انسانی حقوق اور آئینی آزادیوں کا بھی تحفظ کرنا ہوگا۔
عدالت نے اپنے مشاہدات میں 2021 کے مشہور ’’کے اے نجیب‘‘ فیصلے کا حوالہ بھی دیا، جس میں سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ اگر ٹرائل میں غیر معمولی تاخیر ہو تو یو اے پی اے کے تحت گرفتار ملزم کو بھی ضمانت دی جا سکتی ہے۔ تازہ سماعت میں عدالت نے کہا کہ ’’کے اے نجیب‘‘ کا فیصلہ اب بھی ایک مؤثر اور پابند قانون ہے اور نچلی عدالتوں کو اس کی روح کے مطابق فیصلے کرنے چاہئیں۔
قانونی ماہرین اس فیصلے کو یو اے پی اے کے تحت برسوں سے جیلوں میں بند زیرِ سماعت قیدیوں کے لیے ایک بڑی امید قرار دے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق عدالت عظمیٰ کے ان ریمارکس کے بعد اب نچلی عدالتوں اور ہائی کورٹس پر بھی دباؤ بڑھے گا کہ وہ صرف الزامات کی شدت کی بنیاد پر ضمانت مسترد کرنے کے بجائے مقدمات کی تاخیر، شواہد کی نوعیت اور بنیادی حقوق کو بھی مدنظر رکھیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران یو اے پی اے کے استعمال اور اس کے تحت طویل حراست کے معاملات پر انسانی حقوق کی تنظیموں، وکلاء اور سماجی کارکنوں کی جانب سے مسلسل سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قانون کے تحت گرفتار کئی افراد برسوں تک ٹرائل مکمل ہونے سے پہلے ہی جیل میں رہتے ہیں، جبکہ بعد میں بعض معاملات میں خاطر خواہ شواہد بھی سامنے نہیں آتے۔
سپریم کورٹ کے تازہ مشاہدات کو ملک کے قانونی اور سیاسی حلقوں میں غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر مستقبل میں عدالتیں اسی اصول پر عمل کرتی ہیں تو یو اے پی اے کے مقدمات میں ضمانت حاصل کرنا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے اور برسوں سے جیلوں میں بند کئی زیرِ سماعت قیدیوں کو بڑی راحت ملنے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔


