کمال مولیٰ مسجد کا تاریخی تذکرہ: کتاب میں مسجد کی تعمیر، مرمت اور تنازع کی تفصیلات درج

حیدرآباد (دکن فائلز) مدھیہ پردیش کے دھار شہر میں واقع کمال مولیٰ مسجد سے متعلق تاریخی بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ ایک تاریخی کتاب ’’مالوہ کی کہانی، تاریخ کی زبانی‘‘ کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ دھار شہر کے جنوب مغرب میں حضرت مولانا کمال الدین چشتیؒ کے مقبرہ سے متصل یہ قدیم عمارت مسجد کے طور پر تعمیر کی گئی تھی۔

کتاب کے مطابق سلطان علاؤ الدین خلجی کے دور میں مالوہ کی فتح کے بعد 704 ہجری، مطابق 1205 عیسوی کے آس پاس اس مقام پر مسجد کی تعمیر کا حکم دیا گیا، جو تقریباً دو سال میں مکمل ہوئی۔ بعد میں مالوہ کے صوبیدار دلاور خاں غوری نے اس کی مرمت کرائی اور دروازے پر کتبہ نصب کیا گیا۔ کتاب میں یہ بھی درج ہے کہ عمارت میں بعض قدیم پتھر اور ستون استعمال ہوئے، لیکن اسے اس بات کا حتمی ثبوت قرار نہیں دیا گیا کہ یہ مقام پہلے مندر تھا۔

رپورٹ کے مطابق آزادی سے پہلے اندور کے ریزیڈنٹ نے اس عمارت کو مسجد تسلیم کیا تھا، جبکہ آزادی کے بعد حکومت نے اسے آثارِ قدیمہ کے تحفظ میں دے دیا۔ کتاب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس بھوج شالہ کا تاریخی حوالہ ملتا ہے، وہ اس مقام پر نہیں بلکہ شہر کے جنوب میں کن تالاب کے قریب واقع تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں