حیدرآباد (دکن فائلز) مغربی بنگال حکومت نے مذہبی شخصیات کو دی جانے والی مالی امداد بند کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے خواتین کیلئے مفت بس سفر اور نئی مالی امدادی اسکیموں کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ریاست کی سیاست میں نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق حکومت نے اماموں، مؤذنین اور بعض دیگر مذہبی طبقات کیلئے جاری وظیفہ اسکیموں کو مرحلہ وار ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ خواتین کیلئے مفت بس سفر اور ماہانہ مالی امداد جیسی فلاحی اسکیمیں شروع کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
بی جے پی رہنما و وزیرعلیٰ سویندو ادھیکاری نے اس اقدام کو ’’مساوی فلاحی پالیسی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت مذہب کی بنیاد پر اسکیمیں چلانے کے بجائے عوامی فلاح پر توجہ دے رہی ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں اور مسلم تنظیموں نے اس فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے اسے اقلیتی طبقات کے ساتھ ناانصافی قرار دیا ہے۔


