حیدرآباد (دکن فائلز) امریکی ریاست کیلی فورنیا کے شہر سان ڈیاگو کی سب سے بڑی مسجد پر فائرنگ کرنے والے دونوں کم عمر حملہ آوروں کی شناخت سامنے آگئی ہے۔
پولیس نے بتایا کہ 17 سالہ کین کلارک اور 18 سالہ کیلب وازکیز نے اسلامک سینٹر آف سان ڈیاگو کے باہر فائرنگ کر کے سیکیورٹی گارڈ سمیت تین افراد کی جان لی اور بعد میں خود کو گولی مار کر خودکشی کر لی۔
اگرچہ ابتدائی اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ ملزمان پولیس کی گولی سے مارے گئے، تاہم اب حکام نے تصدیق کی ہے کہ دونوں ملزمان کی لاشیں مسجد سے چند گلیوں کے فاصلے پر ایک سفید بی ایم ڈبلیو گاڑی سے ملیں اور انہوں نے خود کو گولی ماری تھی۔
اس حملے میں جاں بحق ہونے والوں کی شناخت بھی سامنے آ گئی ہے جن میں آٹھ بچوں کے باپ اور سیکیورٹی گارڈ امین عبداللہ، ایک کریانہ اسٹور کے مالک اور ایک اور شہری شامل ہیں۔
ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو میں واقع اسلامی مرکز پر ہونے والے خوفناک مسلح حملے نے پوری مسلم برادری کو ہلا کر رکھ دیا۔ پولیس کے مطابق دو مسلح نوجوانوں نے مسجد کے باہر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں تین افراد جاں بحق ہوگئے، جن میں ایک سکیورٹی گارڈ بھی شامل ہے۔ حملے کے بعد دونوں حملہ آور قریب ہی مردہ پائے گئے اور شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے خودکشی کر لی۔
حکام کے مطابق یہ حملہ سان ڈیاگو کے اسلامی مرکز میں نماز اور مذہبی سرگرمیوں کے دوران کیا گیا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ اچانک فائرنگ سے مسجد میں بھگدڑ مچ گئی اور نمازی شدید خوف و ہراس کا شکار ہوگئے۔ پولیس نے واقعہ کو ممکنہ ’’ہیٹ کرائم‘‘ اور اسلاموفوبیا سے جڑا حملہ قرار دیتے ہوئے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔


