امریکی ریاست کیلیفورنیا میں مسجد پر حملہ، تین نمازی شہید، 2 مشتبہ حملہ آور بھی ہلاک

حیدرآباد (دکن فائلز) امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو میں واقع ایک بڑی مسجد پر ہونے والے مسلح حملے میں تین افراد جاں بحق ہوگئے، جبکہ حملہ کرنے والے دو نوجوان بعد میں مبینہ طور پر خودکشی کرتے ہوئے مردہ پائے گئے۔ امریکی حکام نے اس واقعہ کو ممکنہ ’’نفرت انگیز حملہ‘‘ قرار دیتے ہوئے تحقیقات شروع کردی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ Islamic Center of San Diego میں پیش آیا، جہاں دو مسلح نوجوانوں نے اندھا دھند فائرنگ کردی۔ حملے کے دوران مسجد میں موجود تین افراد ہلاک ہوگئے جن میں ایک سکیورٹی گارڈ بھی شامل ہے۔ پولیس حکام کے مطابق سکیورٹی گارڈ نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مزید جانی نقصان کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔

سان ڈیاگو پولیس چیف اسکاٹ واہل نے بتایا کہ حملہ آوروں کی عمریں 17 اور 18 سال کے درمیان تھیں۔ واقعہ کے کچھ دیر بعد دونوں نوجوان ایک گاڑی میں مردہ پائے گئے اور ابتدائی تحقیقات کے مطابق انہوں نے خود کو گولی مار کر خودکشی کرلی۔

پولیس اور ایف بی آئی نے جائے وقوعہ سے ایسی تحریریں اور نشانات برآمد کیے ہیں جن میں اسلام مخالف اور نفرت انگیز مواد موجود تھا، جس کے بعد اس واقعہ کو ’’ہیٹ کرائم‘‘ کے زاویے سے بھی دیکھا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق حملہ آوروں میں سے ایک کی والدہ نے حملے سے قبل اپنے بیٹے کے لاپتہ ہونے اور گھر سے اسلحہ غائب ہونے کی اطلاع بھی دی تھی۔

واقعہ کے وقت مسجد کے احاطے میں بچوں کا ایک تعلیمی مرکز بھی موجود تھا، تاہم خوش قسمتی سے کوئی بچہ زخمی نہیں ہوا۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مسجد کو خالی کرا لیا اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔

امریکی ریاست کیلیفورنیا کے گورنر Gavin Newsom سمیت کئی رہنماؤں نے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ مسلم تنظیموں اور انسانی حقوق کے اداروں نے عبادت گاہوں کی سکیورٹی بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ امریکہ بھر کی کئی مساجد میں اضافی حفاظتی اقدامات نافذ کیے گئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں