حیدرآباد (دکن فائلز) سان ڈیاگو کی مسجد پر ہونے والے حملے میں شہید ہونے والے سکیورٹی گارڈ کی بہادری کو پوری امریکی مسلم برادری سلام پیش کر رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق سکیورٹی گارڈ نے حملہ آوروں کو روکنے اور نمازیوں کو محفوظ مقام تک پہنچانے کی کوشش کی، اسی دوران وہ فائرنگ کی زد میں آ گئے۔
چار سال سے گارڈ کے گہرے دوست سیم حمیدہ نے روتے ہوئے امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کو بتایا کہ امین عبداللہ کوئی عام سیکیورٹی گارڈ نہیں تھے بلکہ آٹھ بچوں کے شفیق باپ اور اپنے پورے معاشرے کا درد رکھنے والے ایک بہترین انسان تھے۔ انہوں نے مسجد کے اندر موجود معصوم بچوں اور نمازیوں کو بچانے کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیا۔
مسجد کے امام اور عینی شاہدین نے بتایا کہ اگر سکیورٹی گارڈ فوری ردعمل نہ دیتے تو جانی نقصان کہیں زیادہ ہو سکتا تھا۔ حملے کے بعد مسجد کے باہر سینکڑوں افراد جمع ہوئے اور شہداء کے لیے دعائیں کی گئیں۔
واقعہ میں شہید ہونے والے سکیورٹی گارڈ کو مقامی مسلم تنظیموں نے ’’ہیرو‘‘ قرار دیا ہے کیونکہ انہوں نے نمازیوں کو بچانے کی کوشش کرتے ہوئے اپنی جان قربان کر دی۔ امریکی مسلم تنظیموں کے ساتھ ساتھ یہودی تنظیموں نے بھی اس حملے کی سخت مذمت کی اور عبادت گاہوں کے تحفظ کے لیے وفاقی سطح پر سکیورٹی بڑھانے کا مطالبہ کیا۔
مسجد انتظامیہ نے اپنے بیان میں کہا کہ عبادت گاہیں امن، دعا اور روحانی سکون کی جگہ ہوتی ہیں، مگر نفرت پر مبنی حملوں نے مسلمانوں میں خوف کی فضا پیدا کر دی ہے۔ دوسری جانب امریکی مسلم تنظیموں نے اسلاموفوبیا کے بڑھتے رجحان پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے نم آنکھوں کے ساتھ کہا کہ بس یہ سوچ کر ہی دل خون کے آنسو روتا ہے کہ دنیا میں ایسا انسان بھی موجود تھا جو دوسروں کے بچوں کی حفاظت کے لیے اپنی جان دینے کو تیار ہو گیا تاکہ دوسرے والدین اپنے بچوں کو گلے لگا سکیں، لیکن اب وہ خود کبھی گھر واپس نہیں جائے گا بلکہ اس کے اپنے آٹھ معصوم بچے اسے مٹی تلے دفنائیں گے، یہ دکھ ناقابلِ برداشت ہے۔
امریکی حکام نے واقعہ کی مکمل تحقیقات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ کئی شہری اور مذہبی تنظیموں نے اس واقعہ کو امریکہ میں بڑھتے اسلاموفوبیا کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
امریکی ریاست کیلیفورنیا میں مسجد پر حملہ، تین نمازی شہید، 2 مشتبہ حملہ آور بھی ہلاک
کیلیفورنیا کی سب سے بڑی مسجد پر دہشت گردانہ حملہ: فائرنگ کرنے والے کم عمر حملہ آور کون تھے؟


